Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 99 of 116
اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا، اے محمد ﷺ ! سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر میں عرض کروں گا: یارب میری امت ، میری امت، پس ارشاد ہوگا، اے حبیب ﷺ جاؤ اور جہنم سے اسے نکال لو جس کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو میں ایسا ہی کروں گا پھر واپس آکر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا پس ارشاد ہوگا اے محمد ﷺ ! سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر میں عرض کروں گا، یارب میری امت میری امت، پس ارشاد ہوگا، اے حبیب ﷺ جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں ذرہ کے برابر بھی ایمان ہو میں ایسا ہی کروں گا۔
پھر واپس آکر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا اور اس کے حضور سجدہ ریز ہوجاؤں گا پس ارشاد ہوگا:
يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيَقُولُ: انْطَلِقْ فَأَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِثْقَالِ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ
اے محمد ﷺ ! سر اٹھاؤ اور کہو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر میں عرض کروں گا: یا رب ! میری امت، میری امت، پس ارشاد ہوگا: اے حبیب ﷺ ! جاؤ اور جہنم سے اسے بھی نکال لو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہو پس میں ایسا ہی کروں گا۔(دیکھیے:صحیح بخاری،حديث: 7510 )
حدیث :( 547) سواد اعظم اہلسنّت و جماعت
حضرت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ﷺ نے فرمایا: میں تم کوان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کے کرنے کا اللہ پاک نے مجھے حکم دیا :
بِالْجَمَاعَةِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالْهِجْرَةِ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ
(مسلمانوں کی بڑی )جماعت کے ساتھ رہنے کا اور علماء حق کی باتیں سننے اور اطاعت کرنے کا اور ہجرت اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے کا ۔
فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَالْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ ، وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ، فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنْ صَامَ، وَإِنْ صَلَّى ؟ قَالَ: " وَإِنْ صَامَ، وَإِنْ صَلَّى، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ
جو جماعت سے ایک بالشت بھر نکل گیا (یعنی عام مسلمانوں کے عقائد و اعمال سے انحراف کیا) اس نے اسلام کی رسی اپنے گلے سے اتاردی مگر یہ کہ لوٹ آئے (اور توبہ کرے) اور جو جاہلیت کے بلاوے (یعنی قومیت کے تعصب) سے بلائے تو وہ دوزخ کے گروہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ! اگر چہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:(ہاں) اگر چہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے۔
(دیکھیے: مسند احمد، 17170)
حدیث :(548) صحیفوں کی تعلیمات
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی:
يَا رَسُول الله مَا كَانَت صُحُفُ إِبْرَاهِيم
یارسول اللہ ﷺ ! ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں کیا تعلیمات تھیں؟
Share:
keyboard_arrow_up