آپ نے فرمایا: وہ تمام تعلیمات تمثیلی انداز میں پیش کی گئی تھیں اور وہ یہ ہیں:
اے فریب خوردہ بادشاہ ! تجھے اقتدار دے کر آزمائش میں ڈالا گیا ہے، تجھے اس لیے نہیں بھیجا گیا ہے کہ دنیا کے مال کا ڈھیر لگائے بلکہ تجھے اس لیے بادشاہ بنایا گیا ہے کہ تو اپنے انصاف کے ذریعے مظلوموں کی التجا کو مجھ تک پہنچنے سے روکے کیونکہ مظلوم کی پکارکو میں رد نہیں کرتا اگر چہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور عقلمند جب تک ہوش و حواس میں ہے اس پر لازم ہے کہ اپنے اوقات کی مناسب تقسیم کرے، کچھ وقت اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے ، کچھ وقت اپنا احتساب کرے ،کچھ وقت اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیزوں پر غوروفکر کرے اور کچھ وقت کھانے پینے کی حاجات كے لیے رکھے۔
عقلمند پر یہ بھی لازم ہے کہ صرف تین مقاصد کے لیے سفر کرے: آخرت کا توشہ جمع کرنے کے لیے یا اپنے معاش کی ضرورت کے لیے یا حلال لذت کے حصول کے لیے اور عقلمند کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے حال کی اصلاح کی طرف متوجہ رہے اپنی زبان کو قابو میں رکھے کیونکہ جو شخص اپنی باتوں کا محاسبہ کرے گا تو صرف مفید باتیں ہی اسکی زبان سے ادا ہوں گی۔
میں نے عرض کی :
فَمَا كَانَت صُحُفُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ كَانَت عِبْراً كلهَا عَجِبْتُ لِمَن أَيقَنَ بِالْمَوْتِ ثمَّ هُوَ يَفْرَحُ عَجِبْتُ لِمَن أَيقَن بالنَّار ثمَّ هُوَ يَضْحَكُ
یارسول اللہ ﷺ ! موسیٰ علیہ السلام کے صحیفوں کی تعلیمات بیان فرمائیے؟ آپ نے فرمایا: وہ سب کی سب وعظ و نصیحت پر مشتمل تھیں ان میں یہ بھی ہے: مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جنہیں موت کا یقین ہو اور وہ دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہوں، مجھے اس شخص پر بھی تعجب ہے جسے جہنم کا یقین ہو اور اسے ہنسی آتی ہو۔
مجھے اس شخص پر بھی تعجب ہوتا ہے جو تقدیر پر یقین رکھتا ہے اور دنیا کمانے کے لیے پریشان رہتا ہو، مجھے اس شخص پر بھی تعجب ہوتا ہے جو دنیا اور اس کے تغیرات کو دیکھتا ہے پھر بھی حصول دنیا کو اپنا مقصد زندگی بناتا ہے، مجھے اس شخص پر بھی تعجب ہوتا ہے جو قیامت کے دن کے حساب کتاب کا یقین رکھتا ہے لیکن نیک اعمال نہیں کرتا۔
پھر میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ ! مجھے وصیت فرمائیے ؟ ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ یہ تمام نیکیوں کی جڑ ہے، میں نے عرض کی: کچھ اور فرمائیے ؟ ارشاد فرمایا: قرآن کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کو لازم کرلو یہ تمہارے لیے زمین میں روشنی ہیں اور آسمان میں باعث اجر ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : مزید ارشاد فرمائیے ؟ ارشاد فرمایا: اپنے آپ کو زیادہ ہنسنے سے بچاؤ کیونکہ یہ قلب کو مردہ کردیتا ہے اور چہرہ کے نور کو ختم کردیتا ہے ، میں نے عرض کی : کچھ اور نصیحت فرمائیے؟ ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو کہ یہ میری امت کی رہبانیت ہے ، میں نے عرض کی: مزید ارشاد فرمائیے : ارشاد فرمایا: غریبوں سے محبت کرو اور ان کی صحبت اختیار کرو۔
میں نے عرض کی : کچھ اور نصیحت کیجئے ؟ ارشاد فرمایا: جو لوگ دولت و مرتبہ میں تم سے کم ہوں انہیں دیکھو اور جو تم سے دولت و مرتبہ میں اعلیٰ ہوں انکی طرف نہ دیکھو ، اس طرح تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری نہیں کرو گے۔ میں نے عرض کی: کچھ اور ارشاد فرمائیے ؟ ارشاد فرمایا: حق بات کہا کرو اگرچہ وہ لوگوں کو بری لگے ، میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ مزید نصیحت فرمائیے ؟ ارشاد فرمایا: تم اپنے عیبوں اور کمزوریوں پر نظر رکھو اور دوسروں کے عیب نہ ڈھونڈو اور وہ کام جو تم کرو اگر دوسرے کریں تو ہر گز غصہ نہ کرو، آدمی کے لیے یہ عیب کافی ہے کہ وہ اپنے عیب نہ پہچانے اور دوسروں کے عیب تلاش کرے اور جو کام خود کرتا ہو اسکے کرنے پر دوسروں سے ناراض ہو۔
Page 100 of 116

