پھر حضور ﷺ نے اپنا دست شفقت میرے سینے پر رکھااور فرمایا: اے ابوذر! سب سے بڑی عقلمندی انجام کو سوچ کر کام کرنا ہے ،سب سے بڑی پرہیزگاری ،حرام سے بچنا ہے اور سب سے بڑی شرافت حسن اخلاق ہے۔(دیکھیے: الترغیب والترہیب، حدیث: 3378)
حدیث :(549) چار اہم وصیتیں
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض گزار ہوا: یارسول اللہ ﷺ ! مجھے کچھ وصیت فرمائیے؟ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
عَلَيْكَ بِالْإِيَاسِ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، وَإِيَّاكَ وَالطَّمعَ فَإِنَّهُ الْفَقْرُ الْحَاضِرُ، وَصَلِّ صَلَاتَكَ وَأَنْتَ مُوَدِّعٌ، وَإِيَّاكَ وَمَا تَعْتَذِرُ مِنْهُ
تم لوگوں کے مال سے اپنے آپ کو بے نیاز اور مایوس بنا لو، مال کے لالچ سے بچوکیونکہ یہ سب سے بڑی محتاجی ہے اورنماز اس طرح پڑھا کرو کہ گویا تم دنیا سے جارہے ہو اور کوئی کام ایسا نہ کرو جس سے معذرت کرنی پڑے۔(مستدرک حاکم، حدیث: 7928)
حدیث :(550) غیرت مند کون ہے؟
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے وہیں اس کا کام تمام کردوں، جب یہ بات نبی کریم ﷺ نے سنی تو فرمایا:
وَاللّٰهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللّٰهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللّٰهِ حَرَّمَ الفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ
تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو! حالانکہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اسی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بے حیائی کے تمام کاموں کو حرام قرار دیا ہے ،خواہ بے حیائی ظاہر ہو یا پوشیدہ۔
اللہ تعالیٰ کو معذرت سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں، اسی لیے اس نے بشارت دینے اور ڈر سنانے کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد وثنا سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں اسی لیے اس نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ (دیکھیے:صحیح بخاری، حديث: 7416)
حدیث :(551) قیامت کی علامات
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِذَا اتُّخِذَ الْفَيْءُ دُوَلًا وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا وَتُعُلِّمَ لِغَيْرِ الدِّينِ وَأَطَاعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ وَأَدْنَى صَدِيقَهُ وَأَقْصَى أَبَاهُ وَظَهَرَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ
جب غنیمت کو اپنی دولت اور امانت کو غنیمت بنا لیا جائے، اور زکوٰۃ کو تاوان سمجھ لیا جائے، جب دنیاداری کے لیے علم حاصل کیا جائے اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت اور والدہ کی نافرمانی کرے، اور اپنے دوست کو قریب اور والد کو دور کرے، جب مسجدوں میں آوازیں بلند کی جائیں۔
جب قبیلہ کا بدکار قوم کی سرداری کرے، جب قوم کا کمینہ ان کا ذمہ دار ہوجائے، جب برے آدمی کی تعظیم اس کے شر سے بچنے کے لیے کی جائے، جب بدکار عورتیں اور گانے بجانے کے آلات ظاہر ہوجائیں، اور شرابیں پی جائیں، اور بعد میں آنے والے اگلے لوگوں پر لعنت کریں، اس وقت تم سرخ ہوا ، زلزلے، زمین میں دھنسنے، صورتیں بدلنے، پتھر برسنے اور ان نشانیوں کا انتظار کرنا جو لگاتار ہوں گی جیسے ہار کا دھاگہ توڑ دیا جائے تو اسکے دانے مسلسل گررہے ہوں ۔
(مشکاۃ المصابیح، حدیث: 5450)
حدیث :(552) حضور علیہ السلام کا طریقہ
Page 101 of 116

