حدیث :(552) حضور علیہ السلام کا طریقہ
حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کا طریقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
اَلْمَعْرِفَةُ رَأْسُ مَالِي، وَالْعَقْلُ أَصْلُ دِينِي، وَالْحُبُّ أَسَاسِيٌّ، وَالشَّوْقُ مَرْكَبِي، وَذِكْرُ اللّٰهِ أَنِيسِي، وَالثِّقَةُ كَنْزِي، وَالْحُزْنُ رَفِيقِي، وَالْعِلْمُ سِلَاحِي، وَالصَّبْرُ رِدَائِي، وَالرِّضَاءُ غَنِيمَتِي، وَالْعَجْزُ فَخْرِي، وَالزُّهْدُ حِرْفَتِي، وَالْيَقِينُ قُوَّتِي، وَالصِّدْقُ شَفِيعِي، وَالطَّاعَةُ حَسْبِي، وَالْجِهَادُ خُلُقِي، وَقُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
معرفت میری اصل دولت ہے، عقل میرے دین کی اصل ہے،محبت میری بنیاد ہے، شوق میری سواری ہے، اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر میرا دوست ہے، اللّٰہ تعالیٰ پر اعتماد میرا خزانہ ہے، حزن و ملال میرا رفیق ہے، علم میرا ہتھیار ہے، صبر میرا لباس ہے، رضائے الٰہی میری غنیمت ہے، عاجزی میرا فخر ہے، زہد میرا پیشہ ہے، یقین میری روزی ہے، صدق میرا ساتھی ہے اطاعت مجھے کافی ہے، جہاد میری خصلت ہے، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ، 1/146، 147)
حدیث: (553) دین مبین فی اربعین
حضرت سلمان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
سَأَلْتُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَرْبَعِينَ حَدِيثًا الَّتِي قَالَ: \\\"مَنْ حَفِظَهَا مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ\\\" قُلْتُ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟
میں نے آقا و مولیٰ ﷺ سے دریافت کیا وہ چالیس حدیثیں کیا ہیں جن کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ جس نے انکو محفوظ کرلیا (یعنی عمل کیا تو) جنت میں داخل ہوگا۔
رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
(1)۔ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لا
(2)۔ اور آخرت کے دن پر
(3)۔ اور فرشتوں کے وجود پر
(4)۔ اور آسمانی کتابوں پر
(5)۔ اور تمام انبیاء کرام پر
(6)۔ اور مرنے کے بعد کی زندگی پر
(7)۔ اور اچھی بری تقدیر پر کہ سب اللّٰہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
(8)۔ اور گواہی دے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں
(9)۔ نماز کے وقت کامل وضو کرکے نماز کو قائم کر
(10)۔ اور زکوٰۃ ادا کر
(11)۔ رمضان کے روزے رکھ
(12)۔ اور اگر مال ہو تو حج کر
(13)۔ بارہ رکعات سنت موٗکدہ روزانہ ادا کر
(14)۔ کسی رات میں بھی وتر نہ چھوڑ
(15)۔ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر
(16)۔ والدین کی نافرمانی نہ کر
(17)۔ ناحق یتیم کا مال نہ کھا
(18)۔ شراب نہ پی
(19)۔ بدکاری نہ کر
(20)۔ جھوٹی قسم نہ کھا
(21)۔ جھوٹی گواہی نہ دے
(22)۔ نفسانی خواہشات پر عمل نہ کر
(23)۔ مسلمان بھائی کی غیبت نہ کر
(24)۔ پاک دامن عورت یا مرد کو تہمت نہ لگا
(25)۔ مسلمان بھائی سے کینہ نہ رکھ
(26)۔ کھیل کود میں مشغول نہ ہو
(27)۔ تماشا دیکھنے والا نہ بن
(28)۔ کسی پستہ قد کو بہ بنیت عیب ٹھگنا مت کہہ
(29)۔ کسی کا مذاق مت اڑا
(30)۔ مسلمانوں کے درمیان چغل خوری نہ کر
(31)۔ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کر
(32)۔ بلا اور مصیبت پر صبر کر
(33)۔ اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بے خبر نہ ہو
(34)۔ رشتہ داروں سے قطع تعلق نہ کر
(35)۔ بلکہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کر
(36)۔ اللّٰہ تعالیٰ کی کسی مخلوق پر لعنت نہ کر
(37)۔ سبحان اللّٰہ ، اللّٰہ اکبر اور لا الہ الا اللّٰہ کا کثرت سے ورد کر
(38)۔ جمعہ اور عیدین میں غیر حاضر مت ہو
(39)۔ اس بات کا یقین رکھ کہ جو مصیبت اور راحت تجھے پہنچی وہ ٹلنے والی نہ تھی اور جو کچھ نہیں پہنچا وہ کسی طرح بھی پہنچنے والا نہ تھا ۔
(40)۔ اور قرآن مجید کی تلاوت کسی حال میں بھی نہ چھوڑو۔
راوی کہتے ہیں میں نے سوال کیا یا رسول اللّٰہ ﷺ جو کوئی ان کو محفوظ کرے اسے کیا ثواب ملے گا؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ قیامت میں اس کا حشر انبیاء کرام علیہم السلام اور علمائے دین کے ساتھ فرمائے گا۔
(دیکھیے:کنزالعمال،حديث:29467)
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

