راوی کہتے ہیں میں نے سوال کیا یارسول اللہ ﷺ جو کوئی ان کو محفوظ کرے اسے کیا ثواب ملے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کا حشر انبیاء کرام علیہم السلام اور علمائے دین کے ساتھ فرمائے گا۔(دیکھیے:کنزالعمال،حديث:29467)
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
حدیث :(554) مال و اولاد کی نعمتیں
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے دو بندوں کو زندہ کرے گا جنہیں اس نے مال و اولاد کی کثرت عطا فرمائی تھی، ایک سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں کیا میں نے تجھے مال و اولاد کی کثرت سے نہیں نوازا تھا ؟ وہ کہے گا : ہاں ، میرے رب تو نے مال و اولاد کی کثرت عطا فرمائی تھی ، ارشاد باری تعالیٰ ہوگا : پھر تو نے کیا کام کیے؟ وہ کہے گا میں نے اپنا سارا مال اپنی اولاد کے لیے چھوڑا تاکہ وہ غربت میں مبتلا نہ ہو، ارشاد ہوگا : اگر تجھے حقیقت کا علم ہوتا تو توکم ہنستا اور زیادہ روتا
أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ
جان لے جس چیز کا اپنی اولاد کے بارے میں تجھے خوف تھا میں نے وہی چیز (غربت ) ان پر مسلط کردی۔
پھر دوسرے سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں کیا میں نے تجھے مال و اولاد کی کثرت سے نہیں نوازا تھا ؟ وہ کہے گا کہ ہاں میرے رب بے شک تو نے نوازا تھا ، ارشاد ہوگا : پھر تونے کیا کام کیے؟ وہ کہے گا میں نے تیرا دیا ہوا مال تیری راہ میں خرچ کیا اور اپنی اولاد کے بارے میں تیری رحمت پر بھروسہ کیا ، ارشاد ہوگا : اگر تجھے حقیقت کا علم ہوتا تو دنیا میں تو ہنستا بہت اور روتا کم
أَمَا إِنَّ الَّذِي وَثِقْتَ لَهُمْ بِهِ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ
جان لے اپنی اولاد کے سلسلے میں تو نے جس بات پر اعتماد کیا میں نے وہی چیز (خوشحالی) انہیں عطا فرمادی۔(المعجم الاوسط، حدیث: 4383)
حدیث :(55) جماعت سے وابستگی
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول معظم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کے دل میں نفاق پیدا نہیں ہوسکتا:
إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأَمْرِ، وَلُزُومُ الْجَمَاعَةِ
اول: جو بھی عمل کرے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے۔ دوم: جو لوگ اجتماعی معاملات کے ذمہ دار ہوں ان کے ساتھ خیر خواہی کرے۔ سوم: مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے، جماعت کے لوگوں کی دعائیں اس کی حفاظت کریں گی۔ (دیکھیے: صحیح ابن حبان، حديث: 680)
حدیث :(556) اخلاص بہت ضروری ہے
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نور مجسم ﷺ نے فرمایا: جو شخص خلوص دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ (محمد رسول اللہ)کہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، صحابہ کرام نے پوچھا: دل کے اخلاص کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
أَن تحجزه عَن محارم الله
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی تمام حرام کی ہوئی چیزوں سے رک جائے۔(الترغیب و الترہیب، حدیث:2345)
حدیث :(557) نور حکمت
رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
عَلَيْكُمْ بِمُجَالَسَةِ الْعُلَمَاءِ، وَاسْتِمَاعِ كَلَامِ الْحُكَمَاءِ فَإِنَّ اللّٰهَ يُحِي الْقَلْبَ الْمَيِّتَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ كَمَا يُحْيَى الْأَرْضَ الْمَيِّتَةَ بِمَاءِ الْمَطَرِ
تم پر علمائے دین کی مجالس کو اختیار کرنا اور اہل حکمت کی باتیں غور سے سننا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مردہ دلوں کو نور حکمت سے اس طرح زندگی بخشتا ہے جس طرح بارش کے پانی سے مردہ زمین کو سرسبز وشاداب بنادیتا ہے۔(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص3)
Page 103 of 116

