حدیث :(558) دوستی کس سے کی جائے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ
انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے پس ہر کوئی سوچ لے کہ وہ کس سے محبت کرتا ہے۔(مسند احمد، حديث: 8417)
حدیث :(559) مال میں برکت
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقا و مولیٰ ﷺ سے مال کا سوال کیا تو آپ نے عطا فرمادیا، دوبارہ سوال کیا تو عطا فرمادیا پھر سوال کیا تو عطا فرمادیااور ارشاد فرمایا:
يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا المَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلاَ يَشْبَعُ، وَاليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى
اے حکیم! یہ مال تازہ اور میٹھا ہے جو اسے اچھی نیت سے لے، اسے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو اسے دل کے لالچ سے لے تو اسے برکت نہیں دی جاتی اور وہ اس شخص کی طرح ہوجاتا ہے جو خوب کھائے اور اس کا پیٹ نہ بھرے، بے شک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
(صحیح بخاری، حديث: 6441)
حدیث :(560) بچانے کے لیے راہ خدا میں خرچ کرو
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک بکری ذبح کی، رسول معظم ﷺ نے دریافت فرمایا: اس سے کچھ باقی بچا ہے؟ میں نے عرض کی: صرف ایک دستی بچ گئی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا
بس اس دستی کے سوا سب کچھ بچ گیا ہے۔(سنن الترمذی، حدیث:2470)
حدیث :( 561) اچھا اور برا دوست
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ
اچھے اور برے دوست کی مثال عطر والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔
عطر والا تمہیں کچھ ہدیہ دے گا یا تم اس سے عطر خریدو گے اور یا تم اس کے پاس سے خوشبو سونگھو گے جبکہ بھٹی والایا تمہارے کپڑے جلادے گا یا تم اس سے دھواں اور بدبو حاصل کرو گے۔
(صحیح مسلم،حديث:146(2628))
حدیث :(562) نیکی کی طرف دوڑ کر آؤ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سَبْعًا هَلْ تُنْظَرُونَ إِلَّا إِلَى فَقْرٍ مُنْسٍ، أَوْ غِنًى مُطْغٍ، أَوْ مَرَضٍ مُفْسِدٍ، أَوْ هَرَمٍ مُفَنِّدٍ، أَوْ مَوْتٍ مُجْهِزٍ، أَوِ الدَّجَّالِ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةِ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ
سات باتوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال اختیار کرلو، کیا تم انتظار کرتے ہو بھلا دینے والی غریبی کا، سرکش کردینے والی امیری کا، ناکارہ بنانے والی بیماری کا، بے عقل کردینے والے بڑھاپے کا، اچانک آنے والی موت کا، دجال کا جو غائب شر ہے اور اس کا انتظارہے یا قیامت کا اور قیامت تو بہت بھیانک اور کڑوی ہے۔(سنن الترمذی، حدیث: 2306)
حدیث :(563) مال و دولت کے بندے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے فرمایا:
تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ، وَالقَطِيفَةِ، وَالخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ
دینار و درہم کے بندے نیز ریشمی چادروں اور اونی کپڑوں کے بندے ہلاک ہوئے کیونکہ یہ چیزیں اگر انہیں مل جاتی ہیں تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو ناراض رہتے ہیں۔
Page 104 of 116

