Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 105 of 116

حدیث: (563) مال و دولت کے بندے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم نے فرمایا:

تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ، وَالقَطِيفَةِ، وَالخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ

دینار و درہم کے بندے نیز ریشمی چادروں اور اونی کپڑوں کے بندے ہلاک ہوئے کیونکہ یہ چیزیں اگر انہیں مل جاتی ہیں تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ ملے تو ناراض رہتے ہیں۔

(صحیح بخاری، حديث: 2887)

 

حدیث: (564) ذکر الٰہی کا قلعہ

رسول اللّٰہ نے ارشاد فرمایا:

میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کیا کرو اور اس ذکر کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی آدمی کے دشمن نہایت تیزی سے اس کا پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعہ میں داخل ہو کر محفوظ ہوجائے

كَذَلِكَ العَبْدُ لَا يُحْرِزُ نَفْسَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللّٰهِ

اسی طرح بندہ شیطان سے نجات نہیں پاسکتا مگر اللّٰہ تعالیٰ کی یاد کے سہارے۔

(دیکھیے: سنن الترمذی، حدیث:2863)

 

حدیث: (565) فضائل قرآن

حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہ نے فرمایا:

یہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کا بچھایا ہوا دستر خوان ہے، پس تم اپنی استطاعت کے مطابق اس پر آؤ، بے شک یہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی رسی ہے، واضح روشنی ہے اور شفا دینے والی دوا ہے، جو لوگ اس کو مضبوطی سے تھامیں گے یہ ان کا محافظ ہے اور پیروی کرنے والوں کے لیے نجات کا ذریعہ ہے یہ ناراض نہیں ہوتا کہ اسے منانا پڑے، اسمیں ٹیڑھا پن نہیں کہ سیدھا کرنا پڑے۔

وَلَا تَنْقَضِي عَجَائبُه وَلَا يَخْلُقُ مِن كَثْرَة الرَّد

 اسکے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے اور بار بار پڑھنے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔

(الترغیب و الترہیب، حدیث:2208)

 

حدیث: (566) حقوق الٰہی کی حفاظت

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نور مجسم نے مجھ سے فرمایا:

احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ

حقوق الٰہی کی حفاظت کرو، اللّٰہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا ، احکام الہی کی حفاظت کرو تو اللّٰہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔

اور جب مانگو اللّٰہ تعالیٰ سے مانگو اور جب مدد مانگو تو اسی سے مانگو اور یقین رکھو کہ اگر پوری امت تم کو نفع پہنچانا چاہے تو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا اور اگر وہ سب جمع ہو کر تمہیں نقصان دینا چاہیں تو ہر گز نہیں دے سکتے سوائے اس کے جو اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارا مقدر کردیا (پس اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت پر ہی بھروسہ رکھو)۔

(دیکھیے: مسند احمد، حديث: 2669)

 

حدیث: (567) چھپے ہوئے متقی لوگ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رہبر مکرم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

ہلکی سی ریا بھی شرک ہے اور جو اللّٰہ تعالیٰ کے ولی سے دشمنی کرے گویا وہ اللّٰہ تعالیٰ سے جنگ کرتا ہے۔

إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ، الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا، وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ

اللّٰہ تعالیٰ ان چھپے ہوئے متقیوں کو پسند فرماتا ہے جو اگر غائب ہوں تو ڈھونڈے نہ جائیں اور اگر موجود ہوں تو نہ بلائے جائیں اور نہ پہچانے جائیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں جو ہر تاریک و غبار آلود جگہ سے نکل جاتے ہیں۔

(سنن ابن ماجہ،حديث: 3989)

Share:
keyboard_arrow_up