Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 106 of 116
آخر زمانے میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بہانے سے دنیا کمائیں گے، لوگوں کے سامنے بھیڑوں کی طرح معصوم بنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے (ظالم اور سخت) ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کیا یہ مجھ سے دھوکا کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں مجھے میری قسم ! ان لوگوں پر انہی میں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا جوانہیں برباد و حیران کردے گا۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2404)
حدیث :(569) عشق رسول ﷺ آزمائش ہے
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول معظم ﷺ کی خدمت میں عرض گزار ہوا: میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، فرمایا: سوچ لے تو کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے عرض کی: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں، یہ بات اس نے تین بار کہی ، آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، فَإِنَّ الفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ
اگر تو سچا ہے تو فقیری کے مقابلے کے لیے اچھی طرح تیار ہوجا کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فقیری سیلاب کے بہنے سے بھی زیادہ تیز دوڑ تی ہے۔(سنن الترمذی، حدیث: 2350)
حدیث :(570) فکر دنیا اور فکر آخرت
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَتِ الآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ اللّٰهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللّٰهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ
جسے آخرت کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کردیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع فرمادیتا ہے اور دنیا اس کے پاس لونڈی بن کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے محتاجی لاتا ہے اور اس کے جمع کیے ہوئے کام منتشر کردیتا ہے اور دنیا بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کا مقدر ہے۔(سنن الترمذی، حدیث: 2465)
حدیث :(571) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سورہ المؤمنون کی آیت 60 کے متعلق سوال کیا کہ (ترجمہ) ’’وہ لوگ جو کریں ان کے دل ڈرتے ہیں‘‘ کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: نہیں، اے بنت صدیق!
الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا تُقْبَلَ مِنْهُمْ
یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں صدقے دیتے ہیں اور پھر بھی ڈرتے ہیں کہ شاید ان کی نیکیاں قبول نہ ہوں ۔
اور یہ مزید نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں۔(سنن الترمذی، حدیث: 3175)
حدیث :(572) چھ قسم کے ملعون
سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا:
سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ
چھ لوگوں پر میری اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔
اور ہر نبی کی ہر دعا قبول ہوتی ہے، وہ لوگ یہ ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا (2) تقدیر کا منکر (3) زبردستی قابض ہونے والا تاکہ عزت والوں کو ذلیل کرے اور انہیں عزت دے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا (4) اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال سمجھنے والا (5) میری آل کے متعلق وہ باتیں حلال سمجھنے والا جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا اور (6) میری سنت کو (ہلکا جان کر) چھوڑنے والا۔
Share:
keyboard_arrow_up