(مشکاۃ المصابیح، حدیث: 109)
حدیث :( 573) زناکے اسباب بھی زنا ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: آدمی کے زنا کا حصہ طے شدہ ہے جسے وہ ضرور پائے گا (یعنی جو برے خیالات کی پرورش کرے گا وہ اسے ضرور بدکاری تک لے جائیں گے)
فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُه
لہٰذا بری نظر سے دیکھنا آنکھ کا زناہے، شہوانی باتیں سننا کان کا زنا ہے، ایسی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، نامحرم کو چھونا اورپکڑنا ہاتھ کا زنا ہے، اس کی طرف چلنا پاؤں کا زنا ہے، ایسی خواہش اور تمنا دل کا زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا یا جھوٹا کردیتی ہے۔(صحیح مسلم،حديث: 21 (2657))
حدیث :(574) مسواک کرنے کے فائدے
رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسواک کرنا لازم کر لو کہ اس کے دس فائدے ہیں:
(1) یہ منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے (2) اسکے عادی کو اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے (3) اس سے شیطان کو تکلیف ہوتی ہے (4) مسواک کرنے والا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا محبوب بن جاتا ہے (5) مسواک سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں (6) یہ بلغم کو ختم کرتی ہے (7) صفرا کو دور کرتی ہے (8) نگاہ کو تیز کرتی ہے (9) اس سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے ، اہم بات یہ ہے کہ (10) یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
الصلاة بِسِوَاكٍ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ صلاةً بِغَيْرِ سِوَاكٍ
جو نماز مسواک کرکے پڑھی جائے وہ ان ستر (70) نمازوں سے افضل ہے جو بغیر مسواک پڑھی جائیں۔ (دیکھیے: المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص97)
حدیث :(575) نماز کی برکتیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے فرمایا: نماز دین کاستون ہے اور اس میں دس خوبیاں ہیں:
(1) یہ نمازی کے چہرے کی رونق ہے (2) دل کی روشنی ہے (3) بدن کے لیے صحت و عافیت ہے (4) قبر میں مونس و ہمدم ہے (5) رحمت کے نزول کا باعث ہے (6) آسمانی برکات کی کنجی ہے (7) میزان کو بھاری بنانے کا ذریعہ ہے (8) رضائے الہی کا ذریعہ ہے (9) جہنم کے عذاب سے ڈھال ہے۔
مَنْ أَقَامهَا فَقَدْ أَقَامَ الدِّينَ، وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ هَدَمَ دِينَهُ
(10) جس نے نمازکو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے اپنا دین ڈھادیا۔(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص118)
حدیث :(576) نورانی دعا
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اے اللہ تعالیٰ! میں تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے تو میرے دل کو ہدایت عطا فرما میرے کام جمع فرما ، میرے الجھاؤ دور فرما ،میرے غائب کی اصلاح فرما، میرے حاضر کو بلند فرما، میرے اعمال پاک کردے اور مجھے ہدایت کی تعلیم عطا فرما، میری الفت لوٹا دے اور مجھے ہر برائی سے بچا، اے اللہ تعالیٰ ! مجھے ایسا ایمان و یقین عطا فرما جس کے بعد کفر نہ ہو اور ایسی رحمت عطا فرما جس سے مجھے دنیا و آخرت میں شرافت و بزرگی حاصل ہو، اے اللہ تعالیٰ! میں تجھ سے قضا میں کامیابی اور شہداء کا مرتبہ اور نیک بختوں کی زندگی اور دشمنوں پر فتح مانگتا ہوں۔
اے اللہ تعالیٰ! میں اپنی حاجت تیرے حضور پیش کرتا ہوں، اگر چہ میری سمجھ کم اور عمل کمزور ہے، میں تیری رحمت کا محتاج ہوں، اے ضروریات کو پورا فرمانے والے! اے سینوں کو شفا بخشنے والے، جس طرح تو سمندروں کے درمیان پناہ دیتا ہے، مجھے جہنم کے عذاب، ہلاکت کی پکار اور قبر کے فتنے سے اسی طرح پناہ عطا فرما، اے اللہ تعالیٰ !جس بھلائی سے میری سمجھ قاصر ہے نیت اور عمل کی وہاں تک رسائی نہیں اور تونے اپنی مخلوق سے اس کی عطا کا وعدہ فرمایا ہے ،جو بھلائی اپنے کسی بندے کو دینے والا ہے میں اس کے لیے تیری طرف راغب ہوتا ہوں اور تیری رحمت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔
Page 107 of 116

