حدیث: (573) زنا کے اسباب بھی زنا ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
آدمی کے زنا کا حصہ طے شدہ ہے جسے وہ ضرور پائے گا (یعنی جو برے خیالات کی پرورش کرے گا وہ اسے ضرور بدکاری تک لے جائیں گے)
فَالْعَيْنَانِ زِنَاهُمَا النَّظَرُ، وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُه
لہٰذا بری نظر سے دیکھنا آنکھ کا زناہے، شہوانی باتیں سننا کان کا زنا ہے، ایسی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے، نامحرم کو چھونا اورپکڑنا ہاتھ کا زنا ہے، اس کی طرف چلنا پاؤں کا زنا ہے، ایسی خواہش اور تمنا دل کا زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا یا جھوٹا کردیتی ہے۔
(صحیح مسلم،حديث: 21 (2657))
حدیث: (574) مسواک کرنے کے فائدے
رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مسواک کرنا لازم کر لو کہ اس کے دس فائدے ہیں:
(1)۔ یہ منہ میں خوشبو پیدا کرتی ہے
(2)۔ اسکے عادی کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے
(3)۔ اس سے شیطان کو تکلیف ہوتی ہے
(4)۔ مسواک کرنے والا اللّٰہ تعالیٰ اور فرشتوں کا محبوب بن جاتا ہے
(5)۔ مسواک سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں
(6)۔ یہ بلغم کو ختم کرتی ہے
(7)۔ صفرا کو دور کرتی ہے
(8)۔ نگاہ کو تیز کرتی ہے
(9)۔ اس سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے ،
اہم بات یہ ہے کہ (10) یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
الصلاة بِسِوَاكٍ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ صلاةً بِغَيْرِ سِوَاكٍ
جو نماز مسواک کرکے پڑھی جائے وہ ان ستر (70) نمازوں سے افضل ہے جو بغیر مسواک پڑھی جائیں۔
(دیکھیے: المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص97)
حدیث: (575) نماز کی برکتیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے فرمایا:
نماز دین کاستون ہے اور اس میں دس خوبیاں ہیں:
(1)۔ یہ نمازی کے چہرے کی رونق ہے
(2)۔ دل کی روشنی ہے
(3)۔ بدن کے لیے صحت و عافیت ہے
(4)۔ قبر میں مونس و ہمدم ہے
(5)۔ رحمت کے نزول کا باعث ہے
(6)۔ آسمانی برکات کی کنجی ہے
(7)۔ میزان کو بھاری بنانے کا ذریعہ ہے
(8)۔ رضائے الہی کا ذریعہ ہے
(9)۔ جہنم کے عذاب سے ڈھال ہے۔
مَنْ أَقَامهَا فَقَدْ أَقَامَ الدِّينَ، وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ هَدَمَ دِينَهُ
(10) جس نے نمازکو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے اپنا دین ڈھا دیا۔
(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص118)

