Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 108 of 116

حدیث: (576) نورانی دعا

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:

اے اللّٰہ تعالیٰ! میں تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے تو میرے دل کو ہدایت عطا فرما میرے کام جمع فرما، میرے الجھاؤ دور فرما ،میرے غائب کی اصلاح فرما، میرے حاضر کو بلند فرما، میرے اعمال پاک کردے اور مجھے ہدایت کی تعلیم عطا فرما، میری الفت لوٹا دے اور مجھے ہر برائی سے بچا، اے اللّٰہ تعالیٰ ! مجھے ایسا ایمان و یقین عطا فرما جس کے بعد کفر نہ ہو اور ایسی رحمت عطا فرما جس سے مجھے دنیا و آخرت میں شرافت و بزرگی حاصل ہو، اے اللّٰہ تعالیٰ! میں تجھ سے قضا میں کامیابی اور شہداء کا مرتبہ اور نیک بختوں کی زندگی اور دشمنوں پر فتح مانگتا ہوں۔

اے اللّٰہ تعالیٰ! میں اپنی حاجت تیرے حضور پیش کرتا ہوں، اگر چہ میری سمجھ کم اور عمل کمزور ہے، میں تیری رحمت کا محتاج ہوں، اے ضروریات کو پورا فرمانے والے! اے سینوں کو شفا بخشنے والے، جس طرح تو سمندروں کے درمیان پناہ دیتا ہے، مجھے جہنم کے عذاب، ہلاکت کی پکار اور قبر کے فتنے سے اسی طرح پناہ عطا فرما،

اے اللّٰہ تعالیٰ !جس بھلائی سے میری سمجھ قاصر ہے نیت اور عمل کی وہاں تک رسائی نہیں اور تونے اپنی مخلوق سے اس کی عطا کا وعدہ فرمایا ہے ،جو بھلائی اپنے کسی بندے کو دینے والا ہے میں اس کے لیے تیری طرف راغب ہوتا ہوں اور تیری رحمت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔

اے اللّٰہ تعالیٰ! اے مضبوط رسی والے! سیدھے امر والے! میں تجھ سے عذاب کے دن امن اور ہمیشگی کے دن ان مقربین کے ساتھ جنت مانگتا ہوں جو ہر وقت حاضری والے، رکوع و سجود کرنے والے اور اپنے وعدے پورے کرنے والے ہیں، بیشک تو مہربان اور محبت والا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے،

اے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والے بنا، گمراہ اور گمراہ کرنے والے نہ بنا، ہمیں اپنے دوستوں سے دوستی کرنے والا اور اپنے دشمنوں کا دشمن بنا، ہم تیری محبت کے سبب تیرے دوستوں سے محبت کریں اور تیری دشمنی کے باعث تیرے دشمنوں سے دشمنی کریں،

اے اللّٰہ تعالیٰ یہ دعا قبول کرنا تیرا کام ہے، یہ صرف کوشش ہے اور بھروسہ تجھی پر ہے۔

اللّٰهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، اللّٰهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا، وَأَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا

اے اللّٰہ تعالیٰ! میرے دل میں نور پیدا فرما اور میری قبر میں نور پیدا فرما اور میرے آگے ، پیچھے، دائیں، بائیں ، اوپر اور نیچے نور ہی نور پھیلا دے ،اے اللّٰہ تعالیٰ! میرے کانوں، میری آنکھوں، میرے بالوں، میرے چہرے، میرے گوشت، میرے خون اور میری ہڈیوں میں نور ہی نور بھر دے، اے اللّٰہ تعالیٰ! میرے لیے نور کو عظیم بنا دے اور مجھے نور عطا فرمادے اور میرے لیے نور بنا دے۔

پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کی چادر اوڑھی اور اسے بیان بھی فرمایا ،پاک ہے وہ ذات جس نے بزرگی اور کرامت کا لباس پہنا، پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی دوسرے کی تسبیح مناسب نہیں وہ فضل و نعمت والا پاک ہے، بزرگی و کرامت والا پاک ہے، جلال و اکرام والا پاک ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:3419)

 

ایمان افروز دعائیں (نبی کریم نے اپنی امت کی تعلیم کے لیے مختلف مواقع پر مختلف دعائیں ارشاد فرمائیں ان سے منتخب دعائیں ذیل میں باحوالہ دی جارہی ہیں)

 

حدیث: (577) دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا

اللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

اے ہمارے رب! ہم کو دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔

(صحیح بخاری،حديث: 4522)

 

حدیث: (578) اللّٰہ کی پناہ مانگو

اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

اے اللّٰہ تعالیٰ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، رنج و غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور کنجوسی سے، مقروض ہوجانے سے اور لوگوں کے غلبے سے ۔

(صحیح بخاری،حديث: 5425)

 

حدیث: (579) اے پروردگار!

اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِي، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُون

اے پروردگار! میں تیرا مطیع ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیرے بھروسے پر کافروں سے لڑتا ہوں، اے اللہ تعالیٰ !میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کرے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں جبکہ تمام جن و انس مرنے والے ہیں۔

(صحیح مسلم،حديث: 67 (2717))

Share:
keyboard_arrow_up