Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 98 of 116
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچو سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے۔
جتنا رزق اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمادیا ہے اس پر راضی رہو غنی بن جاؤ گے۔
اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہو تم کامل مومن بن جاؤ گے۔
جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو تو تم مسلمان ہوگے۔
زیادہ نہ ہنسنا کیونکہ زیادہ ہنسنے سے آدمی کا دل مردہ ہوجاتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح،حدیث: 5171)
حدیث :(544) سات کاموں کا حکم
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ
مجھے میرے آقا و مولیٰ ﷺ نے سات کاموں کا حکم دیا :
(1) میں مسکینوں سے محبت اور ان سے قرب اختیار کروں (2) اپنے سے ادنیٰ کو دیکھوں اور اعلیٰ کو نہ دیکھوں (3) رشتوں کو جوڑوں اگرچہ دور ہی کا رشتہ ہو (4) کسی سے کچھ نہ مانگوں (5) ہمیشہ حق بات کہوں اگرچہ کڑوی ہو (6) اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں (7) اور یہ زیادہ کہا کروں: لاحول ولا قوۃ الا باللہ (نہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر اللہ تعالیٰ کی عطا سے) ، کیونکہ یہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے۔(مسند احمد،حدیث:21415)
حدیث :(545) دس باتوں کی وصیت
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ
مجھے اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ﷺ نے دس باتوں کی وصیت فرمائی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: (1) اے معاذ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اگر چہ تم کو مار ڈالا جائے یا جلا دیا جائے (2) والدین کی نافرمانی نہ کرنا اگرچہ وہ تم کو حکم دیں کہ اپنی بیوی کو چھوڑ دو اور مال سے دستبردار ہوجاؤ (3) کوئی فرض نماز ترک نہ کرنا کیونکہ جو شخص قصداً فرض نماز چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے محروم ہوجاتا ہے (4) شراب مت پینا کیونکہ یہ تمام بے حیائیوں او ربدکاریوں کی جڑ ہے۔
(5) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا کیونکہ نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا غیض و غضب نازل ہوتا ہے (6) دشمن کے مقابلے میں پیٹھ مت دکھانا اگر چہ تمہارے سارے سپاہی ختم ہوجائیں (7) جب لوگوں پر کوئی وبا نازل ہو تو وہاں سے نہ بھاگنا (8) اپنی حیثیت کے مطابق گھر والوں کو کھانا اور کپڑا دینا (9) اپنے گھر والوں کی تربیت میں اپنی چھڑی ان سے نہ ہٹانا (یعنی مناسب سختی کرنا) (10) اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ادا کرنے میں اپنے گھروالوں کو خائف رکھنا۔(مسند احمد، حدیث: 22075)
حدیث :(546) شافع محشر ﷺ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شافع محشر ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مومن بیقرار ہوکر جمع ہوں گے اور کہیں گے کیوں نہ ہم کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو بارگاہ الٰہی میں ہماری شفاعت کرے پس وہ آدم علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ آپ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے اور ہمیں نجات دلائیے ، وہ فرمائیں گے: میں اس کام کے لائق نہیں پھر فرمائیں گے تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں پس وہ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے۔آپ فرمائیں گے، میں اس کام کے لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا پس وہ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق نہیں، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور روح اللہ (اس کی طرف سے روح) ہیں پس وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے وہ فرمائیں گے، میں اس کام کے لائق نہیں تم محمد مصطفیٰ ﷺ کی خدمت میں جاؤ وہ ایسے خاص بندے ہیں کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادیے پس وہ میرے پاس آئیں گے تو میں کہوں گا یہ تو میرا ہی کام ہے پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مرحمت فرمادی جائے گی اور ایسی تعریفیں سکھائی جائیں گی جن کے ساتھ میں حمد و ثنا کروں گا اور اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاؤں گا۔
Share:
keyboard_arrow_up