Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 97 of 116

حدیث:(539) نو باتوں کا حکم دیا گیا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:

مجھے میرے رب نے نو باتوں کا حکم دیا ہے:

خَشْيَةِ اللّٰهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا وَنُطْقِي ذِكْرًا وَنَظَرِي عِبْرَةً وَآمُرُ بِالْمَعْرُوفِ

(1) اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو ں پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی (2) انصاف کی بات کروں غصہ میں بھی اور رضا میں بھی (3) میانہ روی اپناؤں فقیری میں بھی اور امیری میں بھی (4) اور میں اس سے تعلق جوڑوں جو مجھ سے توڑے (5) اور اسے دوں جو مجھے محروم کرے (6) اور اس کو معاف کروں جو مجھ پر ظلم کرے (7) اور یہ کہ میری خاموشی غور و فکر ہو (8) میرا بولنا ذکر الٰہی ہو اور میرا دیکھنا عبرت ہو (9) میں اچھی باتوں کا حکم دوں ۔

(مشکاۃ المصابیح،حديث:5358 )

 

حدیث: (540) بہترین زندگی

حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رحمت عالم نے فرمایا:

الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ

جو میانہ روی کے ساتھ خرچ کرنا سیکھ گیا وہ بہترین زندگی گزارنے کا نصف طریقہ سیکھ گیا ۔

اور جو لوگوں کے ساتھ سکون و محبت کے ساتھ رہنا سیکھ گیا وہ نصف عقلمندی سیکھ گیا اور جو دانائی اور سلیقے سے سوال کرنا سیکھ گیا اس نے نصف علم حاصل کرلیا۔

(شعب الایمان، حديث:6148)

 

حدیث: (541) نیک بندوں کی صفات

حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

جس شخص میں یہ تین صفات پائی جائیں اللّٰہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اپنی حفاظت میں لے لے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا:

رِفقٌ بِالضَّعيفِ، وشفَقةٌ على الوالِدَيْن، وإحسانٌ إلى المملُوكِ

(1): کمزوروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا، (2): والدین کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آنا اور(3) : غلاموں (اور خادموں) کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

اور تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں گی اللّٰہ تعالیٰ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جبکہ اس دن اس کے سائے  کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا :

الْوضُوء فِي الْمَكاره وَالْمَشْي إِلَى الْمَسَاجِد فِي الظُّلمِ وإِطْعامُ الْجِائِع

(1): ناگوار حالات میں وضو کرنا، (2) : تاریک راتوں میں مسجد جانا ، (3) : بھوکوں کو کھانا کھلانا۔

(الترغیب و الترہیب،حديث:1411)

 

حدیث: (542) برے بندوں کی علامات

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ کو یہ فرماتے سنا:

بِئْسَ العَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الكَبِيرَ المُتَعَالِ، بِئْسَ العَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدَى وَنَسِيَ الجَبَّارَ الأَعْلَى

برا بندہ وہ ہے جو غرور و تکبر کرے اور اونچی شان والے کو بھول جائے، برا بندہ وہ ہے جو ظلم و زیادتی کرے اور قہار اعلیٰ کو بھول جائے۔

برا بندہ وہ ہے جو بھول کر کھیل تماشے میں لگ جائے اور قبرستان کو اور (قبر میں) گل جانے کو بھول جائے، برا بند وہ ہے جو غرور کرے اور حد سے بڑھ جائے اور اپنی ابتدا و انتہا کو بھول جائے، برا بندہ وہ ہے جو دنیا کو دین کے بدلے دھوکا دے، برا بندہ وہ ہے جو شبہات سے دین کو بگاڑدے، برا بندہ وہ ہے جسے ہوس لیے پھرے، برا بندہ وہ ہے جسے نفسانی خواہش گمراہ کردے، برا بندہ وہ ہے جسے خواہشات ذلیل کردیں۔

(سنن الترمذی، حدیث:2448)

Share:
keyboard_arrow_up