Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 96 of 116
تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں۔ نجات دینے والی تین چیزیں یہ ہیں:
اول : اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، ظاہرمیں بھی اور پوشیدہ بھی۔دوم: سچی بات کہنا، خوشی میں بھی اور تکلیف میں بھی۔سوم : میانہ روی اختیار کرنا ،امیری میں بھی اور فقیری میں بھی ۔
اور ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں:اول : وہ نفسانی خواہش جس کی پیروی کی جائے۔
دوم : وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے۔سوم : انسان کا اپنے آپ کو سب سے اچھا جاننا (اور دوسروں کو حقیر سمجھنا) اور یہ بات ان سب میں زیادہ بری ہے۔
(دیکھیے:شعب الایمان،حديث:6865)
حدیث :(537) سات لوگ سایہ رحمت میں ہوں گے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: سات لوگ ایسے ہوں گے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا جب کہ اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا:
الإِمَامُ العَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي المَسَاجِدِ، وَرَجُلاَنِ تَحَابَّا فِي اللّٰهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللّٰهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ، أَخْفَى حَتَّى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
عادل حکمران
اور وہ جوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوانی گزارے۔
(3) اور وہ شخص جس کا دل مسجد سے نکلنے کے بعد بھی مسجد میں لگا رہے ۔
(4) اور وہ دو افراد جو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کریں اسی کے لیے جمع ہوں اور اسی کے لیے جدا ہوں۔
(5) اور وہ شخص جسے خاندانی حسین عورت بلائے تو وہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔
(6) اور وہ شخص جو چھپ کر خیرات کرے یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو کہ دایاں ہاتھ کیا دے رہا ہے۔
(7) اور وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے تو اس کے آنسو بہیں۔
(صحیح بخاری، حديث: 660)
حدیث :(538) نفسانی خواہشات اور طویل امیدیں
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى، وَطُولُ الْأَمَلِ، فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ
جن چیزوں کا مجھے اپنی امت پر خوف ہے ان میں زیادہ خوفناک نفسانی خواہش اور لمبی امید ہے۔ نفسانی خواہش حق سے روکتی ہے اور لمبی امید آخرت کو بھلادیتی ہے۔
یہ دنیا کوچ کرکے جارہی ہے اور آخرت کوچ کرکے آرہی ہے ، ان دونوں میں سے ہر ایک کے بچے ہیں اگر تم یہ کرسکو کہ دنیا کے بچے نہ بنو تو ضرور ایسا کرو کیونکہ تم آج عمل کی جگہ ہو جہاں حساب نہیں اور تم کل آخرت کے گھر میں ہوگے جہاں عمل نہ ہوگا۔(شعب الایمان، حديث:10132)
حدیث :(539) نو باتوں کا حکم دیا گیا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا: مجھے میرے رب نے نو باتوں کا حکم دیا ہے:
خَشْيَةِ اللّٰهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا وَنُطْقِي ذِكْرًا وَنَظَرِي عِبْرَةً وَآمُرُ بِالْمَعْرُوفِ
Share:
keyboard_arrow_up