پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے تندرستی کو، فقیری سے پہلے امیری کو، موت سے پہلے زندگی کو اور مشغولیت سے پہلے فرصت کو ۔
(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص58)
حدیث :(533) لوگوں کی تین قسمیں
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللّٰهُ بِهِ مِنَ الهُدَى وَالعِلْمِ، كَمَثَلِ الغَيْثِ الكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا
جو چیز دے کر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے یعنی علم و ہدایت اس کی مثال زمین پر پڑنے والی کثیر بارش کی طرح ہے۔
پس زمین کے ایک اچھے حصے نے پانی کو جذب کرلیا، خشک گھاس سبز ہوگئی اور بہت سی نئی گھاس پیدا ہوئی اور زمین کا ایک حصہ ایسا سخت تھا کہ اس کے اوپر پانی جمع ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا ، لوگوں نے اسے پیا اور پلایا اور اس سے کھیتی کو سیراب کیا جبکہ یہ بارش کا پانی زمین کے ایسے حصے پر بھی برسا جو چٹیل میدان تھا نہ اس نے پانی جمع کیا اور نہ گھاس اُگائی۔
یہ ( پہلی) مثال ہے اسکی جس نے علم دین سمجھا اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے بھیجی تھی اس سے نفع اٹھایا، خود بھی سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور (دوسری) مثال ہے اس شخص کی جس نے علم دین حاصل نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول نہ کیا۔ (دیکھیے: صحیح بخاری، حديث: 79)
حدیث :(534) قیامت میں پانچ سوالات
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ
قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کرلیا جائے گا:
عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ
اس کی زندگی کے بارے میں کہ کن کاموں میں خرچ کی؟
اس کی جوانی کے بارے میں کہ کیسے گزاری؟
اس کے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا؟
اور کہاں خرچ کیا؟
اور اس بارے میں کہ جو سیکھا اس پر کتنا عمل کیا؟(سنن الترمذی، حدیث: 2416)
حدیث :(535) چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے نفس کی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤمیں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں:
اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ، وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ، وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ
جب بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب امانت دی جائے تو ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ (ظلم سے) روکو۔
(مسند احمد، حدیث: 22757)
حدیث :(536) تین اچھی اور تین بری باتیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ، وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ، فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ، وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتِ: فَهَوًى مُتَّبِعٌ، وَشُحٌّ مُطَاعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ، وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ "
Page 95 of 116

