حدیث: (531) عذاب کے مناظر
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ جب نماز پڑھتے تو چہرہ انور ہماری جانب کر کے فرماتے :
آج رات تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے بیان کرتا اور آپ وہ فرماتے جو اللّٰہ تعالیٰ چاہتا چنانچہ آپ نے اسی طرح ہم سے پوچھا، ہم نے عرض کی: نہیں،
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
آج رات میں نے دو افراد کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہیں، میں نے دیکھا ایک شخص بیٹھا ہے اور ایک شخص ہاتھ میں لوہے کا زنبور لیے کھڑا ہے جس سے اس کا جبڑا چیرتا ہے یہاں تک کہ اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر اس کا دوسرا جبڑا چیر دیتا ہے ،اتنی دیر میں پہلا جبڑا ٹھیک ہوجاتا ہے، اس طرح وہ مسلسل دونوں جبڑے چیرتا رہتا ہے میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ وہ بو لے چلیے پھر ہم ایسے شخص پر پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہے اور ایک شخص پتھر سے اس کا سر کچل رہا ہے وہ جب اسے مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے جب وہ پتھر لینے جاتا ہے تو اس کے آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح ٹھیک ہوجاتا ہے اور وہ پھر پتھر اس کے سر پر مارتا ہے ، میں نے کہا : یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلیے۔
پھر ہم ایک سوراخ تک پہنچے جو تنور کی طرح اوپر سے تنگ اور اندر سے کشاہ تھا، اس میں جب آگ بھڑکتی تو کچھ لوگ آگ کے شعلوں پر اوپر آجاتے یہاں تک کہ تنور کے منہ تک پہنچ جاتے پھر آگ جب نیچے ہوتی تو وہ بھی نیچے چلے جاتے یہ ننگے مرد اور عورتیں تھیں، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلیے پھر ہم ایک خون کی نہر پر پہنچے جس کے کنارے ایک آدمی بہت سے پتھر لیے کھڑا ہے اور ایک آدمی نہر کے بیچ میں ہے وہ جب نکلنے کی کوشش کرتا تو یہ شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا تو وہ پھر واپس لوٹ جاتا میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلیے۔
پھر ہم ایک سبز باغ تک پہنچے جس میں ایک بڑا درخت تھا جس کی جڑ میں ایک بوڑھے بزرگ اور کچھ بچے تھے، ایک شخص درخت کے قریب آگ روشن کر رہا تھا وہ مجھے درخت تک لے گئے اور مجھے اس گھر میں داخل کیا جو درخت کے نیچے تھا اس سے اچھا مکان میں نے کبھی نہ دیکھا اس میں کچھ بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے تھے پھر وہ مجھے وہاں سے لے گئے اور اس درخت کی جڑ کے پاس ایسے گھر میں داخل کیا جو اس سے بھی اچھا اور بہتر تھا اس میں بوڑھے اور جوان تھے میں نے ان دونوں افراد سے کہا: تم نے مجھے آج رات جو کچھ دکھایا اس کے بارے میں بتاؤ۔
انہوں نے جواب میں عرض کی:
أَمَّا الَّذِي رَأَيْتَهُ يُشَقُّ شِدْقُهُ، فَكَذَّابٌ يُحَدِّثُ بِالكَذْبَةِ، فَتُحْمَلُ عَنْهُ حَتَّى تَبْلُغَ الآفَاقَ، فَيُصْنَعُ بِهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ يُشْدَخُ رَأْسُهُ، فَرَجُلٌ عَلَّمَهُ اللّٰهُ القُرْآنَ، فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ فِيهِ بِالنَّهَارِ، يُفْعَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي الثَّقْبِ فَهُمُ الزُّنَاةُ، وَالَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُوا الرِّبَا، وَالشَّيْخُ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَالصِّبْيَانُ، حَوْلَهُ، فَأَوْلاَدُ النَّاسِ وَالَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الأُولَى الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ المُؤْمِنِينَ، وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَاءِ، وَأَنَا جِبْرِيلُ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ
وہ شخص جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا ہے ،یہ وہ جھوٹا ہے جو جھوٹی باتیں ہر جگہ پھیلاتا ہے ،اسے یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا۔ جو شخص آپ نے دیکھا جس کا سر کچلا جارہا ہے ،یہ وہ شخص ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن سکھایا اور وہ ہر رات غفلت کی نیند سو یا اور دن میں اس کے احکام پر عمل نہ کیا، اسے یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا، اور جو لوگ آپ نے آگ کے تنور میں دیکھے ،وہ بدکار لوگ ہیں اور جسے آپ نے خون کی نہر میں دیکھا ، وہ سود خو ر ہیں اور وہ بوڑھے بزرگ جنہیں آپ نے درخت کی جڑ میں دیکھا ، ابراہیم علیہ السلام ہیں اور ان کے اردگرد والے بچے لوگوں کی (بچپن میں فوت شدہ) اولاد ہیں اور وہ جو آگ جلا رہے تھے دوزخ کے داروغہ مالک ہیں اور پہلا گھر جس میں آپ گئے وہ عام جنتی مسلمانوں کا گھر ہے اور یہ گھر شہداء کا گھر ہے ، میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ (علیہما السلام)
(صحیح بخاری، حديث: 1386)

