حدیث: (528) نفع کا سودا
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
پاکی نصف ایمان ہے، الحمد للّٰہ میزان کو بھر دے گی، سبحان اللّٰہ اور الحمد للّٰہ زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں، نماز روشنی ہے، صدقہ و خیرات (ایمان کی) دلیل ہے، صبر چمک ہے، قرآن تیری طرف سے یا تیرے خلاف حجت ہے (یہ تیرے عمل پر منحصر ہے) اور ہر شخص جب صبح کو اٹھتا ہے تو اپنے نفس کا سودا کرتا ہے پس وہ یا تو نفس کو (آگ سے ) آزاد کرتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے۔
(صحیح مسلم، حديث: 1 (223))
حدیث: (529) دل کی تاریکی اور روشنی
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ چار باتیں دل کی تاریکی سے پیدا ہوتی ہیں:
بہت زیادہ کھاپی کر پیٹ بھرنا،
بدمذہبوں اور فاسقوں کی صحبت اختیار کرنا،
اپنے سابقہ گناہوں کو بھول جانا۔
اور لمبی لمبی امیدیں قائم کرنا۔
اور چار چیزیں دل کی روشنی سے پیدا ہوتی ہیں:
حساب و کتاب کے خوف سے بھوکے پیٹ رہنا،
اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنا،
اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کرکے استغفار کرنا
اور اپنی امیدوں کو مختصر کرنا۔
(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص39)
حدیث: (530) حضور علیہ السلام کا سچا خواب
حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی عالم ﷺ نے فرمایا:
(میں نے خواب دیکھا کہ) میں اپنے رب تعالیٰ کے پاس اچھی صورت میں تھا ،
ارشاد باری تعالیٰ ہوا:
اے محمد ﷺ میں نے عرض کی: یارب میں حاضر ہوں، ارشاد ہوا: مقرب فرشتے کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟
میں نے عرض کی: میں نہیں جانتا پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو ہر شے مجھ پر ظاہر ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔
پھر ارشاد ہوا: اے محمد ﷺ میں نے عرض کی: یارب میں حاضر ہوں، فرمایا: مقرب فرشتے کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟
میں نے عرض کی کفاروں میں ،
ارشادہوا: وہ کفارے کیا ہیں؟
میں نے عرض کی: جماعت کے لیے پیدل جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا اور ناگوار حالات میں پورا وضو کرنا،
ارشاد فرمایا: پھر کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟
عرض کی : درجات میں،
ارشاد فرمایا: وہ کیا ہیں؟
عرض کی: کھانا کھلانا، نرمی سے گفتگو کرنا اور لوگوں کے سونے کے وقت نماز پڑھنا۔
پھر فرمایا: کچھ مانگو میں نے عرض کی: یارب!میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں، تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور جب تو کسی قوم میں فتنہ بھیجنا چاہے تو مجھے فتنہ میں مبتلا کیے بغیر وفات دیدے، یارب میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور جو تجھ سے محبت کریں ان کی محبت بھی اور ہر اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت سے قریب کردے،
پھر رسول اللّٰہ ﷺ نے ہمیں فرمایا:
إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا
یہ خواب برحق ہے پس تم یہ دعائیں یاد کرلو اور دوسروں کو سکھاؤ۔
(دیکھیے:سنن الترمذی، حدیث: 3235)

