Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 93 of 116
پاکی نصف ایمان ہے ، الحمد للہ میزان کو بھر دے گی، سبحان اللہ اور الحمد للہ زمین و آسمان کو بھردیتے ہیں، نماز روشنی ہے، صدقہ و خیرات (ایمان کی) دلیل ہے، صبر چمک ہے، قرآن تیری طرف سے یا تیرے خلاف حجت ہے (یہ تیرے عمل پر منحصر ہے) اور ہر شخص جب صبح کو اٹھتا ہے تو اپنے نفس کا سودا کرتا ہے پس وہ یا تو نفس کو (آگ سے ) آزاد کرتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے۔
(صحیح مسلم، حديث: 1 (223))
حدیث :(529) دل کی تاریکی اور روشنی
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ چار باتیں دل کی تاریکی سے پیدا ہوتی ہیں:
بہت زیادہ کھاپی کر پیٹ بھرنا، بدمذہبوں او رفاسقوں کی صحبت اختیار کرنا، اپنے سابقہ گناہوں کو بھول جانا اور لمبی لمبی امیدیں قائم کرنااور چار چیزیں دل کی روشنی سے پیدا ہوتی ہیں: حساب و کتاب کے خوف سے بھوکے پیٹ رہنا، اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنا ، اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کرکے استغفار کرنا اور اپنی امیدوں کو مختصر کرنا۔ (المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص39)
حدیث :(530) حضور علیہ السلام کا سچا خواب
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہادی عالم ﷺ نے فرمایا: (میں نے خواب دیکھا کہ) میں اپنے رب تعالیٰ کے پاس اچھی صورت میں تھا ،ارشاد باری تعالیٰ ہوا: اے محمد ( ﷺ ) میں نے عرض کی: یارب میں حاضر ہوں، ارشاد ہوا: مقرب فرشتے کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟ میں نے عرض کی: میں نہیں جانتا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو ہر شے مجھ پر ظاہر ہوگئی اور میں نے پہچان لی۔پھر ارشاد ہوا: اے محمد ( ﷺ ) میں نے عرض کی: یارب میں حاضر ہوں، فرمایا: مقرب فرشتے کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟ میں نے عرض کی کفاروں میں ، ارشادہوا: وہ کفارے کیا ہیں؟ میں نے عرض کی: جماعت کے لیے پیدل جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا اور ناگوار حالات میں پورا وضو کرنا ، ارشاد فرمایا: پھر کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟ عرض کی : درجات میں، ارشاد فرمایا: وہ کیا ہیں؟ عرض کی: کھانا کھلانا، نرمی سے گفتگو کرنا اور لوگوں کے سونے کے وقت نماز پڑھنا۔
پھر فرمایا: کچھ مانگو میں نے عرض کی:یارب!میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں، تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور جب تو کسی قوم میں فتنہ بھیجنا چاہے تو مجھے فتنہ میں مبتلا کیے بغیر وفات دیدے، یارب میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور جو تجھ سے محبت کریں ان کی محبت بھی اور ہر اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت سے قریب کردے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا:
إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا
یہ خواب برحق ہے پس تم یہ دعائیں یاد کرلو اور دوسروں کو سکھاؤ۔
دیکھیے:سنن الترمذی، حدیث: 3235)
حدیث :(531) عذاب کے مناظر
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ جب نماز پڑھتے تو چہرہ انور ہماری جانب کرکے فرماتے : آج رات تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے بیان کرتا اور آپ وہ فرماتے جو اللہ تعالیٰ چاہتا چنانچہ آپ نے اسی طرح ہم سے پوچھا، ہم نے عرض کی: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:آج رات میں نے دو افراد کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہیں، میں نے دیکھا ایک شخص بیٹھا ہے اور ایک شخص ہاتھ میں لوہے کازنبور لیے کھڑا ہے جس سے اس کا جبڑا چیرتا ہے یہاں تک کہ اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر اس کا دوسرا جبڑا چیر دیتا ہے ،اتنی دیر میں پہلا جبڑا ٹھیک ہوجاتا ہے، اس طرح وہ مسلسل دونوں جبڑے چیرتا رہتا ہے میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلیے پھر ہم ایسے شخص پر پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہے اور ایک شخص پتھر سے اس کا سر کچل رہا ہے وہ جب اسے مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے جب وہ پتھر لینے جاتا ہے تو اس کے آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح ٹھیک ہوجاتا ہے اور وہ پھر پتھر اس کے سر پر مارتا ہے ، میں نے کہا : یہ کیا ہے؟ وہ بولے چلیے۔
Share:
keyboard_arrow_up