Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 92 of 116
کبھی کسی کو گالی نہ دینا، پس اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک رکھو اور یہ نہ کرسکو تو ٹخنوں تک ہی رکھ لو، اور تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتا اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہارے کسی عیب کو بیان کرکے تمہیں شرمندہ کرے تو تم اس کا کوئی عیب بیان کرکے اسے شرمندہ نہ کرو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہے ۔ (دیکھیے: سنن ابی داؤد،حديث: 4084)
حدیث :(527) رحمتوں والی نیکیاں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ
جو کسی مسلمان کو دنیاوی تکلیف سے رہائی دے گا، اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن مصیبت دور کرے گا اور جو کسی تنگی والے مسلمان پر آسانی کرے گا ،اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اللہ تعالیٰ بندے کی اس وقت تک مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔جو حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرے گا ،اللہ تعالیٰ اس پر جنت کا راستہ آسان فرمائے گا اور جب کوئی قوم اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن پڑھنے اور آپس میں قرآن سیکھنے اور سکھانے کے لیے جمع ہوتی ہے تو ان پر دل کا سکون نازل ہوتا ہے اور انہیں رحمت الٰہی اور فرشتے گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں فرشتوں کی جماعت میں یاد کرتا ہے اور نسب کی شرافت اعمال کی کمی کو پورا نہیں کرسکتی۔(صحیح مسلم، حديث: 38 (2699))
حدیث :(528) نفع کا سودا
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
Share:
keyboard_arrow_up