Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 92 of 116

حدیث: (526) پیارے رسول کی پیاری باتیں

حضرت جابر بن سلیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کر رہے ہیں اور جو بات وہ کہتے ہیں لوگ فوراً قبول کرلیتے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ رسول اللّٰہ ہیں، میں نے ان کے پاس جا کر ان الفاظ سے سلام کیا:علیک السلام یارسول اللّٰہ!

آپ نے فرمایا: علیک السلام نہ کہو، مردہ شخص کو اس طرح دعا دیتے ہیں ، تم السلام علیک، کہا کرو۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟

حضور نے فرمایا:

ہاں میں اللّٰہ تعالیٰ کا رسول ہوں جسے تم مصیبت میں پکارو تو وہ مصیبت دور کردے، اگر بارش نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ بارش برسائے اور غلہ اگائے اور اگر بیابان میں سفر کرتے ہوئے تمہاری اونٹنی کھو جائے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری اونٹنی واپس لائے۔ میں نے عرض کی: مجھے نصیحت فرمائیے؟

ارشاد فرمایا:

لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا شَاةً، قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ، فَإِنَّهَا مِنَ المَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ، فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ

کبھی کسی کو گالی نہ دینا، پس اس کے بعد میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ نے فرمایا: ”کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک رکھو اور یہ نہ کرسکو تو ٹخنوں تک ہی رکھ لو، اور تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتا اور اگر کوئی شخص تمہیں برا بھلا کہے اور تمہارے کسی عیب کو بیان کر کے تمہیں شرمندہ کرے تو تم اس کا کوئی عیب بیان کرکے اسے شرمندہ نہ کرو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہے ۔

(دیکھیے: سنن ابی داؤد،حديث: 4084)

 

حدیث: (527) رحمتوں والی نیکیاں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمِ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ

جو کسی مسلمان کو دنیاوی تکلیف سے رہائی دے گا، اللّٰہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن مصیبت دور کرے گا اور جو کسی تنگی والے مسلمان پر آسانی کرے گا ،اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گا اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اللّٰہ تعالیٰ بندے کی اس وقت تک مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔جو حصول علم کے لیے کوئی راستہ طے کرے گا ،اللّٰہ تعالیٰ اس پر جنت کا راستہ آسان فرمائے گا اور جب کوئی قوم اللّٰہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں قرآن پڑھنے اور آپس میں قرآن سیکھنے اور سکھانے کے لیے جمع ہوتی ہے تو ان پر دل کا سکون نازل ہوتا ہے اور انہیں رحمت الٰہی اور فرشتے گھیر لیتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ انہیں فرشتوں کی جماعت میں یاد کرتا ہے اور نسب کی شرافت اعمال کی کمی کو پورا نہیں کرسکتی۔

(صحیح مسلم، حديث: 38 (2699))

Share:
keyboard_arrow_up