فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ
ایک حصہ خیرات کردیتا ہوں ، ایک حصہ میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک حصہ دوبارہ اس میں خرچ کردیتا ہوں۔(دیکھیے: صحیح مسلم، حديث: 45 (2984))
حدیث :(525) اسلام کا تعارف
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ (جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی کے دربار میں اسلام کے بارے میں یہ تعارفی تقریر کی) فرمایا: اے بادشاہ! ہم جاہلیت کی زندگی گزار رہے تھے، بتوں کی پوجا کرتے ، مردار کھاتے، علانیہ بے حیائی کا ارتکاب کرتے، رشتہ داروں کے حقوق برباد کرتے، پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے اور ہر طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا۔ ہم اسی گمراہی میں مبتلا تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کی نسبی شرافت ، سچائی، امانت و دیانت اور پاکدامنی سے ہم خوب واقف تھے، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا کہ ہم صرف اسی کو اپنا معبود مانیں اور ان پتھروں اور بتوں کو چھوڑ دیں جنکی ہم اور ہمارے اسلاف پوجا کرتے تھے۔
وَأَمَرَ بِصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ. وَنَهَانَا عَنْ: الْفَوَاحِشِ، وَقَوْلِ الزُّورِ، وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ، وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ. وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ
اس رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سچی بات کہنے، امانت میں خیانت نہ کرنے، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرمتوں سے باز رہنے اور قتل و خونریزی سے رکنے کی تعلیم دی اور ہمیں بدکاریوں ، جھوٹی گواہی دینے، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورت پر بہتان لگانے سے منع فرمایا۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور نماز پڑھیں ، زکوٰۃ دیں اور روزہ رکھیں۔
(دیکھیے: مسند احمد، 22498)
حدیث :(526) پیارے رسول کی پیاری باتیں
حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کررہے ہیں اور جو بات وہ کہتے ہیں لوگ فوراً قبول کرلیتے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، میں نے ان کے پاس جا کر ان الفاظ سے سلام کیا: علیک السلام یارسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا: علیک السلام نہ کہو، مردہ شخص کو اس طرح دعا دیتے ہیں ، تم السلام علیک، کہا کرو۔میں نے پوچھا : کیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ہاں میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جسے تم مصیبت میں پکارو تو وہ مصیبت دور کردے، اگر بارش نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ بارش برسائے اور غلہ اگائے اور اگر بیابان میں سفر کرتے ہوئے تمہاری اونٹنی کھو جائے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری اونٹنی واپس لائے۔ میں نے عرض کی: مجھے نصیحت فرمائیے؟ ارشاد فرمایا:
لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا شَاةً، قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ، فَإِنَّهَا مِنَ المَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ، فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ
Page 91 of 116

