حدیث: (523) پانچ تباہ کن باتیں
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ
اے مہاجرین کے گروہ! پانچ برائیاں ایسی ہیں کہ اگر تم ان میں مبتلا ہوئے (تو تمہارا کیا حال ہوگا) میں یہ برائیاں تمہارے اندر پیدا ہونے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔
1:زنا جب کسی قوم میں اعلانیہ ہونے لگے تو انہیں ایسی عجیب بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جو پہلے لوگوں میں نہیں تھیں۔
2:ناپ تول میں کمی جب کسی قوم میں عام ہوجائے تو اللّٰہ تعالیٰ اس پر قحط، خشک سالی اور ظالم حاکم مسلط کردیتا ہے۔
3:زکوٰۃ نہ دینا جس قوم میں پیدا ہوجائے ان پر آسمان سے پانی برسنا رک جاتا ہے اور اگر جانور نہ ہوں تو بالکل بارش نہ ہو
4:اللّٰہ تعالیٰ اور رسول اللّٰہ ﷺ سے بغاوت پھیل جائے تو اللّٰہ تعالیٰ لوگوں پر دشمن کو مسلط کردیتا ہے۔
5: اگر مسلمان حاکم اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق حکومت نہ کریں تو مسلمانوں میں انتشار اور خونریزی پھیل جاتی ہے۔
(دیکھیے: سنن ابن ماجہ،حديث: 4019)
حدیث: (524) مال کی بہترین تقسیم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کسی جنگل میں تھا اس نے بادل میں سے آواز سنی کہ
اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ
فلاں کے باغ کو سیراب کر،
پھر یہ بادل چلا اور ایک پتھریلی زمین پر پانی برسایا، پھر یہ سارا پانی جمع ہو کر ایک نالی میں بہنے لگا تو یہ شخص پانی کے پیچھے چلنے لگا پھر اس نے دیکھا کہ وہ پانی ایک باغ میں جارہا ہے اور ایک شخص باغ میں کھڑا ہوا بیلچے سے پانی کو باغ میں پھیلا رہا ہے اس نے پوچھا : اے اللّٰہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام لیا جو اس نے بادل سے سنا تھا۔
اس نے کہا: میں نے ایک آواز سنی تھی کہ کوئی تیرا نام لے کر بادل کو کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر، تو یہ بتا کہ تو کیا خاص نیکی کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا میں اس باغ کی پیداوار کے تین حصے کرتا ہوں:
فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ
ایک حصہ خیرات کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور ایک حصہ دوبارہ اس میں خرچ کردیتا ہوں۔
(دیکھیے: صحیح مسلم، حديث: 45 (2984))
حدیث: (525) اسلام کا تعارف
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ (جعفر بن ابی طالب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نجاشی کے دربار میں اسلام کے بارے میں یہ تعارفی تقریر کی) فرمایا:
اے بادشاہ! ہم جاہلیت کی زندگی گزار رہے تھے، بتوں کی پوجا کرتے ، مردار کھاتے، علانیہ بے حیائی کا ارتکاب کرتے، رشتہ داروں کے حقوق برباد کرتے، پڑوسیوں سے برا سلوک کرتے اور ہر طاقتور کمزور کو کھا جاتا تھا۔
ہم اسی گمراہی میں مبتلا تھے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے پاس ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کی نسبی شرافت، سچائی، امانت و دیانت اور پاک دامنی سے ہم خوب واقف تھے، اس نے ہمیں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف بلایا کہ ہم صرف اسی کو اپنا معبود مانیں اور ان پتھروں اور بتوں کو چھوڑ دیں جنکی ہم اور ہمارے اسلاف پوجا کرتے تھے۔
وَأَمَرَ بِصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ. وَنَهَانَا عَنْ: الْفَوَاحِشِ، وَقَوْلِ الزُّورِ، وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ، وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ. وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ
اس رسول اللّٰہ ﷺ نے ہمیں سچی بات کہنے، امانت میں خیانت نہ کرنے، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرمتوں سے باز رہنے اور قتل و خونریزی سے رُکنے کی تعلیم دی اور ہمیں بدکاریوں ، جھوٹی گواہی دینے، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورت پر بہتان لگانے سے منع فرمایا۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود نہ بنائیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور نماز پڑھیں ، زکوٰۃ دیں اور روزہ رکھیں۔
(دیکھیے: مسند احمد، 22498)

