Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 90 of 116

حدیث: (519) جنت میں لے جانے والے دس کام

حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بار گاہ نبوی میں عرض کی:

یا رسول اللّٰہ مجھے ایسے کام بتائے جو جنت میں لے جائیں اور جہنم سے دور کریں،

ارشاد فرمایا:

تم نے بڑی بات پوچھی ہاں  جس پر اللّٰہ تعالی آسان کر دے اس کے لیے آسان ہے۔

‎ تَعْبُدُ اللَّهَ لا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ

اللّٰہ تعالی کی بندگی کرتے رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو اور ز کوۃ دو رمضان کے روزے رکھو اور خانہ کعبہ کا حج کرو۔

پھر ارشاد فرمایا:
کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتادوں؟

 

الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِيُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِاللَّيْل

روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو اور آدھی رات کے بعد نماز تہجد پڑھنا۔

 


پھر یہ آیت تلاوت کی (ترجمہ)
” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “
(سورہ سجدہ آیت: 16)
پھر فرمایا:
میں تمہیں سارے کاموں کا سر ،ستون اور کو ہان کی بلندی اونچا عمل نہ بتادوں؟
‎میں نے عرض کی: ارشاد فرمائیے
‎ فرمایا:
‎الْجِهَادُ
‎پھر فرمایا:
کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں ضرور بتائے ، حضور نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا:

تم اس کو اپنے قابو میں رکھو، میں نے عرض کی: یانبی اللّٰہ کیا گفتگو کے بارے میں بھی ہمارا مواخذہ ہو گا ؟
آپ نے فرمایا:
اے معاذ تیری ماں تجھ پر روئے

وَهَلْ يُكِبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ، إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟
لوگوں کو جہنم میں منہ کے بل گرانے والی اس زبان کی باتیں ہوں گی۔
‎(دیکھیے : سنن ابن ماجہ حدیث : 3973)

حدیث: (520) تین اچھے اور تین برے

حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم نے فرمایا:

‎ثلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ

اللّٰہ تعالیٰ تین لوگوں سے محبت کرتا ہے اور تین لوگوں سے سخت ناراض ہے۔


‎جن سے محبت کرتا ہے ان میں سے ایک وہ ہے کہ جب کوئی شخص اس کی قوم کے پاس پہنچا اور ان سے اللّٰہ تعالیٰ کے نام پر مانگا اور لوگوں نے اسے منع کر دیا تو یہ شخص پیچھے ہٹا اور لوگوں سے چھپا کر اسے کچھ دے دیا جس کا علم اللّٰہ تعالیٰ اور اس دینے والے کے سوا کسی کو نہیں ۔

‎اور دوسرا وہ شخص ہے کہ جب لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ نیند غالب آگئی تو سو گئے تو یہ شخص کھڑا ہو کر میری رضا چاہنے لگا اور میری آیات تلاوت کرتا رہا۔

اور تیسر اوہ شخص جو دشمن سے بر سر پیکار تھا اس کے ساتھی بھاگنے لگے تو یہ اپنا سینہ تان کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا یا اس کی وجہ سے فتح حاصل ہوئی۔

اور وہ تین لوگ جن سے اللّٰہ تعالی سخت ناراض ہے:

ان میں ایک وہ بوڑھا ہے جو بدکاری کرے اور دو سرا وہ فقیر جو تکبر کرے اور تیسرا، وہ مالدار جو لوگوں پر ظلم کرے۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2568)

 

حدیث:(521) چار اہم نصیحتیں

ح‎ضرت ابوذر غفاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ روایت ہے کہ نبی کریم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:

‎ يا أَبَا ذَرِّ جَدِّدِ السَّفِينَةَ، فَإِنَّ الْبَحْرَ عَمِيقٌ ، و خُذِ الزَّادَ كَامِلاً، فَإِنَّ السَّفَرَ بَعِيدٌ، وَخَفْفِ الْحَمَلَ، فَإِنَّ الْعَقَبَةَ كَؤُودٌ، وَأَخْلِصِ الْعَمَلَ، فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِيرٌ - 

اے ابو ذر! کشتی کی اچھی طرح دیکھ بھال کرلو کیونکہ سمندر بہت گہرا ہےاور مناسب زاد راہ جمع کرلو کیونکہ (آخرت کا) سفر بہت طویل ہےاور سامان سفر کا بوجھ ہلکا رکھو کیونکہ گھاٹی بہت دشوار ہےاور ہر کام میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ پر کھنے والا بڑا دانا ہے۔

(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص33)

 

حدیث: (522) بندگی کی حلاوت

حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بندگی کی حلاوت اور لذت چار چیزوں میں پائی ، وہ یہ ہیں:

أُولَاهَا فِي أَدَاءِ فَرَائِضِ اللّٰهِ تَعَالىٰ، وَٱلثَّانِي فِي ٱجْتِنَابِ مَحَارِمِ اللّٰهِ تَعَالَىٰ، وَٱلثَّالِثِ فِي ٱلاَمْرِ بِالْمَعرُوفِ ٱبْتِغَاءَ ثَوَابِ ٱللّٰهِ وَٱلرَّابِعِ: فِي ٱلنّهيِ عَنِ الْمُنکَرِ ٱتِّقَاءَ غَضَبِ ٱللّٰهِ

(1) اللّٰہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات کو پابندی سے ادا کرنا (2) اللّٰہ تعالیٰ کے حرام کردہ کاموں سے نفرت و اجتناب کرنا (3) اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کی نیت سے لوگوں کو نیکی کا حکم دینا (4) اللّٰہ کے غضب کے خیال سے لوگوں کو برائیوں سے روکنا۔

چار چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر ثواب کا باعث ہیں لیکن باطنی طور پر فرض کے مرتبہ میں ہیں:

(1)۔ صالحین سے میل جول رکھنا نیک کام ہے لیکن ان کے نقش قدم پر چلنا لازم ہے۔

(2)۔ قرآن پاک کی تلاوت ثواب کا کام ہے لیکن اس کے احکام پرعمل کرنا فرض ہے۔

(3)۔ قبروں کی زیارت کرنا مستحب ہے لیکن قبر کے لیے تیاری کرنا بہت ضروری ہے۔

(4)۔ بیمار کی عیادت ثواب کا کام ہے لیکن اس کی وصیت پر عمل کرنا ملّی فریضہ ہے۔

(المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص37)

Share:
keyboard_arrow_up