حدیث :(519) جنت میں لے جانے والے دس کام
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بارگاہ نبوی میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! مجھے ایسے کام بتائیے جو جنت میں لے جائیں اور جہنم سے دور کریں، ارشاد فرمایا: ”تم نے بڑی بات پوچھی ہاں جس پر اللہ تعالیٰ آسان کردے اس کے لیے آسان ہے۔
تَعْبُدُ اللّٰهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ
اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے رہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور خانہ کعبہ کا حج کرو۔
پھر ارشاد فرمایا:کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتادوں؟
الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْل
روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو اور آدھی رات کے بعد نماز تہجد پڑھنا۔
پھر یہ آیت تلاوت کی (ترجمہ) ’’ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں“ (سورہ سجدہ آیت: 16) پھر فرمایا: میں تمہیں سارے کاموں کا سر، ستون اور کوہان کی بلندی (اونچا عمل) نہ بتادوں؟ میں نے عرض کی: ارشاد فرمائیے! فرمایا:
الْجِهَادُ
پھر فرمایا: کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں؟ میں نے عرض کی : کیوں نہیں ضرور بتائیے، حضور ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: تم اس کو اپنے قابو میں رکھو، میں نے عرض کی: یانبی اللہ ﷺ ! کیا گفتگو کے بارے میں بھی ہمارا مواخذہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اے معاذ تیری ماں تجھ پر روئے
وَهَلْ يُكِبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ، إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟
لوگوں کو جہنم میں منہ کے بل گرانے والی اسی زبان کی باتیں ہوں گی ۔
(دیکھیے: سنن ابن ماجہ،حديث: 3973)
حدیث :(520) تین اچھے اور تین برے
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللّٰهُ
اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے محبت کرتا ہے اور تین لوگوں سے سخت ناراض ہے ۔
جن سے محبت کرتا ہے ان میں سے ایک وہ ہے کہ جب کوئی شخص اس کی قوم کے پاس پہنچا اور ان سے اللہ تعالیٰ کے نام پر مانگا اور لوگوں نے اسے منع کردیا تو یہ شخص پیچھے ہٹا اور لوگوں سے چھپا کر اسے کچھ دے دیا جس کا علم اللہ تعالیٰ اور اس دینے والے کے سوا کسی کو نہیں اور دوسرا وہ شخص ہے کہ جب لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ نیند غالب آگئی تو سو گئے تو یہ شخص کھڑا ہو کر میری رضا چاہنے لگا اور میری آیات تلاوت کرتا رہا اور تیسرا وہ شخص جو دشمن سے برسرپیکار تھا اس کے ساتھی بھاگنے لگے تو یہ اپنا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ قتل کردیا گیا یا اس کی وجہ سے فتح حاصل ہوئی۔اور وہ تین لوگ جن سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے: ان میں ایک وہ بوڑھا ہے جو بدکاری کرے اور دوسرا وہ فقیر جو تکبر کرے اور تیسرا، وہ مالدار جو لوگوں پر ظلم کرے۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2568)
حدیث :(521) چار اہم نصیحتیں
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:
يا اَبَا ذَرٍّ جَدِّدِّ السَّفِينَةَ، فَإِنَّ الْبَحْرَ عَمِيقٌ،و خُذِ الزَّادَ كامِلاً، فَإِنَّ السَّفَرَ بَعِیدٌ،وَخَفِّفِ الْحَمَلَ، فَإِنَّ الْعَقَبَةَ كَؤُودٌ،وَأَخْلِصِ الْعَمَلَ، فَإِنَّ النَّاقِدَ بَصِيرٌ
Page 89 of 116

