Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 88 of 116
حدیث :(517) دنیا کی تین پسندیدہ چیزیں
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں محبوب ہیں : خوشبو، نکاح کرنا اور یہ کہ نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ نے سچ فرمایا، مجھے بھی اس دنیا کی تین چیزیں محبوب ہیں:
النظر الی وَجْه رسول الله صلی الله علیه وسلم وَإِنْفَاقَ مَالِيَ علی رسول الله صلی الله علیه سلم و ان یکون َ ابْنَتِي تحت رسول الله صلی الله علیه وسلم
آپ کے چہرہ مبارک کا مسلسل دیدار کرنا، آپ پر اپنا مال و متاع نثار کرنا اور میری بیٹی (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کا آپ کے نکاح میں رہنا۔
یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے ابو بکر ! آپ نے سچ فرمایا ، مجھے بھی اس دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں :نیکیوں کا حکم دینا، برائیوں سے روکنا اور پرانے کپڑے پہننا۔
یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے عمر ! آپ نے سچ فرمایا ، مجھے بھی اس دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں: بھوکوں کو کھانا کھلانا، ننگوں کو کپڑے پہنانا اور تلاوت قرآن پاک کرتے رہنا۔
یہ سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے عرض کی: اے عثمان ! آپ نے سچ فرمایا ، مجھے بھی دنیا کی تین چیزیں پسند : مہمان کی خدمت، گرمیوں کے روزے اور جہاد میں تلوار سے دشمنوں کی گردنیں اڑانا۔
اسی گفتگو کے دوران حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے اور عرض کی : یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ مجھ سے دریافت فرمائیں کہ اگر میں دنیا کا رہنے والا ہوتا تو کیا پسند کرتا؟ تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: اگر تم اہل دنیا میں سے ہوتے تو کون سی چیزیں پسند کرتے؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی: گمراہوں کی رہنمائی کرنا، قناعت پسندبندوں کی دل جوئی کرنا اور بال بچوں والے تنگدسوں کی امداد کرنا ، پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی: اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے بندوں کی تین خصلتوں سے بہت محبت ہے: جتنی استطاعت ہو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا، گناہوں پر ندامت کے ساتھ رونا اور فاقہ کے وقت صبر کرنا۔ (المنبہات لابن حجر عسقلانی،ص27تا 29)
حدیث :(518) تقویٰ کیا ہے؟
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
الحَلاَلُ بَيِّنٌ، وَالحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لاَ يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ
حلال بھی واضح اور حرام بھی ، اور ان دونوں کے درمیان شک و شبہ والی چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے گا وہ اپنا دین اور عزت بچالے گا
اور جو ان مشتبہ چیزوں کو اختیار کرے گا وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو اپنا ریوڑ شاہی چراگاہ کے قریب چراتا ہے خدشہ ہے کہ اس کے جانور شاہی چراگاہ میں نہ گھس جائیں، (اے لوگو!)ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی بھی چراگاہ ہے جو کہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں
أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ
آگاہ ہوجاؤ کہ جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے ،جب وہ صحیح ہو پورا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے جان لو وہ دل ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث: 52)
Share:
keyboard_arrow_up