Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 87 of 116
ترجمۂ کنزالایمان: اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف واپسی ہو، یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پھر میرے خاص بندوں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔ (پ30، الفجر: 27تا 30 )
حدیث :(516) اسماء و صفات باری تعالیٰ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ محبوب خدا ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کو یاد کیا اور ان کی حفاظت کی وہ جنت میں جائے گا، وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، الرحمن (بڑی رحمت والا)، الرحیم (نہایت مہربان)، الملک (حقیقی بادشاہ)،القدوس (عیوب سے پاک)، السلام (بے عیب اور سلامتی والا)، المؤمن (امن دینے والا)، المھیمن (نگہبان)، العزیز (سب پر غالب)، الجبار (صاحب جبروت، بدلہ دینے والا)، المتکبر (بلند اور بڑائی والا)، الخالق (پیدا کرنے والا)، الباری (ایجاد کرنے والا)، المصور (صورت دینے والا)، الغفار (گناہ بخشنے والا)، القھار (سب پر پوری طرح غالب)، الوہاب (بغیر معاوضہ کے عطا فرمانے والا)، الرزاق (سب کو روزی دینے والا)، الفتاح (رحمت کے در کھولنے والا)، العلیم (سب جاننے والا)، القابض (تنگی کرنے والا)، الباسط (فراخی کرنے والا)، الخافض (پست کرنے والا)، الرافع (بلند کرنے والا)، المعز (عزت دینے والا)، المذل (ذلت دینے والا)، السمیع (سب کچھ سننے والا)، البصیر (سب کچھ دیکھنے والا)، الحکم (حقیقی حکومت والا)، العدل (عدل و انصاف والا)، اللطیف (لطف و کرم کرنے والا)، الخبیر (ہر بات سے باخبر)، الحلیم (نہایت بردبار)، العظیم (بڑی عظمت والا)، الغفور (خطائیں بخشنے والا )، الشکور (قدر دان اور بہترین جزاء دینے والا)، العلی (سب سے بلند)، الکبیر (سب سے بڑا)، الحفیظ (حفاظت فرمانے والا)، المقیت (سامان حیات دینے والا)، الحسیب (حساب لینے والا اور سب کے لیے کافی)، الجلیل (جلالت والا)، الکریم (کرم فرمانے والا)، الرقیب (نگہبان)، المجیب (دعائیں قبول فرمانے والا)، الواسع (وسعت رکھنے اور وسعت دینے والا)، الحکیم (حکمت والا)، الودود (اپنے بندوں کو چاہنے والا)، المجید (بزرگی والا)، الباعث (موت کے بعد اٹھانے والا)، الشھید (ہر جگہ موجود)، الحق (جس کا وجود حق ہے)، الوکیل (کارساز حقیقی)، القوی (قوت والا)، المتین (بہت مضبوط)، الولی (مددگار)، الحمید (لائق حمد)، المحصی (سب کو جاننے والا)، المبدی (پہلا وجود بخشنے والا)، المعید (دو بارہ زندگی دینے والا)، المحیی (زندگی بخشنے والا)، الممیت (موت دینے والا)، الحی (زندہ)، القیوم (ہمیشہ قائم رہنے والا)، الواجد (سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا)، الماجد (بزرگی والا)، الواحد (اپنی ذات میں اکیلا)، الصمد(سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج)، القادر (قدرت والا)، المقتدر (سب پر اقتدار رکھنے والا)، المقدم (آگے کردینے والا)، المؤخر (پیچھے کردینے والا)، الاول (سب سے پہلے)، الآخر (سب سے پیچھے)، الظاہر (ظاہر و آشکار )، الباطن (مخفی ، پوشیدہ)، الوالی (مالک و کارساز)، المتعالی (بہت بلند و بالا) ، البر (احسان فرمانے والا)، التواب (توبہ قبول کرنے والا)، المنتقم (مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے والا)، العفو (معافی دینے والا)، الرؤف (بہت مہربان)، مالک الملک (سارے جہان کا مالک)، ذوالجلال والاکرام (جلال اور کرم والا)، المقسط (انصاف فرمانے والا)، الجامع (قیامت کے دن جمع فرمانے والا)، الغنی (خود بےنیاز)، المغنی (اپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا)، المانع (روک دینے والا)، الضار (حکمت کے تحت ضرر پہنچانے والا)، النافع (حکمت کے تحت نفع پہنچانے والا)، النور (خود نور اور روشن کرنے والا)،الھادی (ہدایت دینے والا)، البدیع (بغیر سابقہ مثال کے پیدا فرمانے والا)، الباقی (ہمیشہ رہنے والا)، الوارث (سب کے فنا ہوجانے کے بعد باقی رہنے والا)، الرشید (ہدایت دینے والا)،ا لصبور (صبر والا)۔(سنن الترمذی، حدیث:3507)
Share:
keyboard_arrow_up