جو استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر تنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
(سنن ابی داؤد، حديث: 1518)
حدیث :(511) نیکی کا حکم دینا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الدَّالَّ عَلَى الخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
نیکی کی طرف بلانے والے کو اس پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
(دیکھیے:سنن الترمذی،حدیث:2670)
حدیث :(512) برائی کو روکنے کی کوشش کرو!
حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَصَابَهُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا
جب کسی قوم میں کوئی شخص گناہ کرتا ہے اور دوسرے لوگ قدرت کے باوجود اسے گناہ سے نہیں روکتے تو ان پر مرنے سے پہلے دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے۔
(سنن ابی داؤد،حديث: 4339)
حدیث :(513) برائیاں دیکھ کر غیرت نہ کرنے کا وبال
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:( بنی اسرائیل کے ایک شہر کے لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں مبتلا تھے گناہوں کی زیادتی کے باعث) اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو حکم دیا : فلاں شہر کو اس کے باشندوں سمیت الٹ کر تباہ کردو ، انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی : ان نافرمانوں میں تیرا ایک ایسا بندہ بھی ہے جو لمحے بھر کے لیے تیری یاد سے غافل نہیں ہوا، ارشاد باری تعالیٰ ہوا: اسے سب سے پہلے عذاب میں مبتلا کرو پھر دوسروں کو کیونکہ اس کے سامنے لوگ گناہ کرتے رہے لیکن لمحے بھر کے لیے بھی اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر نہ ہوئے (اور اس نے انہیں گناہوں سے منع نہیں کیا۔)
(مشکاۃ المصابیح، حدیث:5152)
حدیث :(514) راہِ خدا میں گردآلود قدم
حضرت ابو عبس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
جس بندے کے پاؤں اللہ تعالیٰ کی راہ میں گرد آلود ہوجائیں اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔
(سنن الترمذی، حدیث:1632)
حدیث :(515) سب سے بڑا جہاد
حضرت ابو سعیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
بہترین جہاد یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہی جائے۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2174)
باب ششم؛جامع احادیث
جسکے تلووں کا دھوون ہے آب حیات
ہے وہ جان مسیحا ہمارا نبی
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی
صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم
ارشادات باری تعالیٰ
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت مِلی اُسے بہت بھلائی ملی اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ (پ3، البقرۃ: 269)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بےشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو۔ (پ14، النحل: 125)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اوررات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ (پ4، ٰل عمرٰن: 191 ، 191)
Page 86 of 116

