حدیث: (505) ذکراللّٰہ کرنے والے ہی زندہ ہیں
حضرت ابو موسیٰ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لاَ يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الحَيِّ وَالمَيِّتِ
اس کی مثال جو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور جو نہ کرے، زندہ اور مردہ کی سی ہے۔
(صحیح بخاری،حديث:6407)
حدیث: (506) باعث حسرت مجلس
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللّٰهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ
کوئی قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور نہ تو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھا تو یہ مجلس ان پر حسرت و نقصان کا باعث ہوگی اگر رب چاہے تو انہیں اس پر عذاب دے اور اگر چاہے تو بخش دے۔
(سنن الترمذی، حدیث:3380)
حدیث: (507) توبہ و استغفار
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
جب بندہ گناہ کا اقرار کر لیتا ہے پھر سچی توبہ کرلیتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرماتا ہے۔
(مشکاۃ المصابیح،حديث:2330 (8))
حدیث: (508) بندے کی توبہ پر اللّٰہ کی خوشی
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری بیابان میں ہو اور وہ سواری بھاگ جائے اس پر اس کا کھانا پانی بھی ہو ،وہ شخص اپنی سواری سے مایوس ہو کر کسی درخت تک پہنچے اور مایوس ہو کر درخت کے سائے میں لیٹ جائے اور اچانک اس کی سواری اس کے پاس آجائے وہ اسکی لگام پکڑ کر انتہائی خوشی میں یوں کہہ دے:
اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّك
الٰہی تو میرا بندہ اور میں تیرا رب بندہ بہت زیادہ خوشی کی وجہ سے غلطی کرگیا (یعنی وہ کہنا یہ چاہتا تھا الٰہی میں تیرا بندہ تو میرا رب لیکن خوشی کے باعث الٹ کہہ گیا)۔
(صحیح مسلم،حديث: 7 (2747))
حدیث: (509) گناہ کا دل پر اثر
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، فَإِنْ زَادَ، زَادَت
مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ زیادہ گناہ کرے تو سیاھی بڑھتی جاتی ہے ۔
یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگادیا۔
(ابن ماجہ، حديث: 4244)
حدیث: (510) ہر تنگی سے نجات
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، جَعَلَ اللّٰهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
جو استغفار کو اپنے اوپر لازم کرلے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے ہر تنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
(سنن ابی داؤد، حديث: 1518)

