حدیث: (500) عذاب اور رحمت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ
اگر مومن کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو اس کی جنت میں جانے کی کوئی شخص امید نہ رکھے اور اگر کافر کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا علم ہوجائے تو کوئی شخص اس کی جنت میں جانے سے نا امید نہ ہو۔
(صحیح مسلم،حديث: 23(2755))
حدیث: (501) اللّٰہ تعالیٰ مہربان ہے
حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رحمت کائنات ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے ان میں سے ایک قیدی عورت دوڑتی پھر رہی تھی، جب وہ کسی بچے کو دیکھتی تو اس کو اٹھا کر چھاتی سے لگا لیتی اور دودھ پلانے لگتی۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
کیا تم یہ سوچ سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے؟ ہم نے عرض کی ہر گز نہیں آپ نے فرمایا:
اللّٰهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا
اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ عورت اپنے بچے پر ۔
(دیکھیے: صحیح بخاری،حديث:5999)
حدیث: (502) مؤمن امید اور خوف کے درمیان رہتا ہے
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس گئے جو مرنے کے قریب تھا، آپ نے فرمایا:
اس وقت تم اپنے آپ کو کس حال میں پاتے ہو؟ اس نے عرض کی: یارسول اللّٰہ ﷺ میں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتا ہوں اور مجھے اپنے گناہوں کا ڈر بھی ہے،
فرمایا:
لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا المَوْطِنِ إِلَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَاف
اس وقت جس شخص کے دل میں یہ دونوں طرح کے خیالات ہوں گے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی امید کو پورا کرے گا اور وہ جس چیز سے ڈر رہا ہوگا اس سے محفوظ فرمائے گا۔
(سنن الترمذی، حدیث: 983)
حدیث: (503) اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو وہ مجھ سے رکھے۔
وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ
جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں۔
(صحیح مسلم،حديث: 2(2675))
حدیث: (504) اللّٰہ کے سیر کرنے والے فرشتے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقاﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے راستوں میں اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں جب وہ کچھ لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان ذکر کرنے والوں کو اپنے پروں سے آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
جب یہ فرشتے بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوتے ہیں تو رب تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، میرے وہ بندے کیا کہتے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ تیری تسبیح و تکبیر اور تیری حمد و بزرگی بیان کرتے تھے،
رب تعالیٰ فرماتا ہے:
کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ عرض کرتے ہیں تیری قسم انہوں نے تجھے نہیں دیکھا، رب تعالیٰ فرماتا ہے: اگر دیکھ لیں تو کیا ہو؟ عرض کرتے ہیں اگرتجھے دیکھ لیں تو تیری بہت عبادت کریں اور بہت بزرگی اور بہت تسبیح کریں۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے: وہ مجھ سے کیا مانگتے تھے ؟ عرض کرتے ہیں: تجھ سے جنت مانگتے تھے، رب تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انہوں نے جنت دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں یارب تیری قسم جنت نہیں دیکھی، فرماتا ہے: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو کیا ہو؟ عرض کرتے ہیں: اگر وہ جنت دیکھ لیں تو انکی آرزو بڑھ جائے اور اس کی طلب اور رغبت بہت زیادہ ہوجائے،
فرماتا ہے: وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ عرض کرتے ہیں: آگ سے،
فرماتا ہے: کیا انہوں نے آگ دیکھی ہے؟ عرض کرتے ہیں یارب تیری قسم نہیں دیکھی،
فرماتا ہے: اگر وہ لوگ دوزخ دیکھ لیں تو کیا ہو ؟ عرض کرتے ہیں: اگر وہ دیکھ لیں تو اس سے بہت بھاگیں اور بہت ڈریں۔
پھر رب تعالیٰ فرماتا ہے:
میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان فرشتوں میں سے ایک عرض کرتا ہے:
فِيهِمْ فُلاَنٌ لَيْسَ مِنْهُمْ، إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ. قَالَ: هُمُ الجُلَسَاءُ لاَ يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
ان میں فلاں بھی تھا جو ذاکرین میں نہیں تھا وہ تو کسی کام کے لیے آیا تھا، رب تعالیٰ فرماتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔
(صحیح بخاری،حديث: 6408)

