Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 83 of 116

حدیث: (496) انسان کی ناپسند، اللّٰہ کی پسند

حضرت محمود بن لبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:

دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے:

وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ

وہ موت کو نا پسند کرتا ہے حالانکہ موت مومن کے لیے فتنہ سے بہتر ہے اور مال کی کمی کو نا پسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کو کم کردے گی۔

(مسند احمد،حديث:23625)

 

حدیث: (497) موت ہر دم پیچھے ہے

حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام  نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور دوسری اسکے برابر جبکہ تیسری بہت دور گاڑی پھر فرمایا:

کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے! صحابہ نے عرض کی : اللّٰہ تعالیٰ و رسول ہی جانتے ہیں،

فرمایا:

هَذَا الْإِنْسَانُ وَهَذَا الْأَجَلُ أُرَاهُ قَالَ:وَهَذَا الْأَمَلُ فَيَتَعَاطَى الْأَمَلَ فَلَحِقَهُ الْأَجَلُ دُونَ الْأَمَلِ

یہ انسان ہے اور یہ موت ہے اور یہ تیسری امید ہے، انسان امیدوں میں مشغول رہتا ہے لیکن اسے امید سے پہلے موت آجاتی ہے۔

(مشکاۃ المصابیح، حديث:5278)

 

حدیث: (498) اللّٰہ سے ملاقات

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ، أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ، كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ

جو شخص اللّٰہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللّٰہ تعالیٰ سے ملاقات پسند نہیں کرتا اللّٰہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو نا پسند فرماتا ہے۔

میں نے عرض کی: اللّٰہ تعالیٰ سے ملنے کو نا پسند کرنے کا مطلب کیا یہ ہے کہ آدمی موت کو نا پسند کرتا ہے؟

حضور نے فرمایا:

نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب مومن کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی رضا اور جنت کی بات بتائی جاتی ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ملاقات کا خواہشمند ہوتا ہے، ایسے شخص سے اللّٰہ تعالیٰ بھی ملنا چاہتا ہے اور جب کافر کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے سے نفرت فرماتا ہے۔

(صحیح مسلم، حديث: 15 (2684))

 

حدیث: (499) رحمت و مغفرت کی امید

حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم نے فرمایا:اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

جو ایک نیکی کرے اسے دس گنا یا اس سے بھی زیادہ ثواب دوں گا، جو گناہ کرے تو اس گناہ کی سزا اس کے برابر ہی ہے یا میں معاف کردوں گا۔

وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً، وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً

جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میری رحمت اس کے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میری رحمت اس کے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے، جو میرے پاس چل کر آتا ہے میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہے اور جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائے پھر زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے تو میں اس کے گناہوں کے برابرمغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا۔

(صحیح مسلم، حديث: 22 (2687))

Share:
keyboard_arrow_up