اے عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ مسافر ہو یا راہ گیر اور اپنے کو قبر والوں میں شمار کرو۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 4114)
حدیث :( 492) صرف عمل ہی بچے گا
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں، دو چیزیں لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہ جاتی ہے:
يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُه
اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال جاتے ہیں، گھر والے اور مال لوٹ جاتے ہیں اور اس کے اعمال ساتھ رہ جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم،حديث: 5 (2960))
حدیث :( 493) دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: دو زخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہوگا جس کے لیے آگ کا جوتا اور دو تسمے ہونگے، جس سے اس کا دماغ ابلتا ہوگا جیسے ہانڈی ابلتی ہے،
مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا
وہ یہ نہ سمجھے گا کہ کوئی اس سے بھی سخت عذاب والا ہے حالانکہ وہ ان سب میں ہلکے عذاب والا ہوگا۔ (صحیح مسلم، حدیث:364 (213))
حدیث :(494) غمِ آخرت کی برکات
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا:
مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا، هَمَّ آخِرَتِهِ، كَفَاهُ اللّٰهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا لَمْ يُبَالِ اللّٰهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ
جو تمام غموں کو ایک آخرت کا غم بنالے اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے غموں سے کافی ہوگا اور جسے دنیا کے غم ہر طرف لیے پھریں (اور اسے آخرت کی فکر نہ ہو) اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ بھی نہ کرے گا کہ وہ کون سے جنگل میں ہلاک ہوا۔ (دیکھیے: سنن ابن ماجہ، حديث: 257)
حدیث :(495) موت کو یاد رکھو!
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے تو لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا، فرمایا:
أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى، فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ المَوْتِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى القَبْرِ يَوْمٌ إِلَّا تَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ:
اگر تم لذتیں ختم کرنے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو تو وہ تم کو اس سے روک دے جو میں دیکھ رہا ہوں، پس تم لذتیں ختم کردینے والی موت کا ذکر زیادہ کیا کرو کیونکہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا مگر قبر کلام کرتی ہے وہ کہتی ہے:
میں مسافروں کا گھر ہوں اور میں تنہائی کا گھر ہوں اور میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں اور جب مومن دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس کو کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو جو لوگ میری پیٹھ پر چلتے تھے ان سب میں تو بہت پیارا تھا، اب جب کہ تو میرے پاس آیا ہے تو اپنے ساتھ میرا اچھا برتاؤ دیکھ لے گا، پھر قبرتا حد نظر کشادہ ہوجاتی ہے اور جب بدکار یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے تیرا آنا مبارک نہیں، تو مجھے ان سب میں سخت ناپسند تھا جو میری پشت پر چلتے تھے اب جبکہ تو میرے پاس آیا ہے، تو اپنے ساتھ میرا برتاؤ دیکھ لے، پھر قبر اس پر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ مردہ کی پسلیاں اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہیں، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا اور بعض انگلیوں کو بعض کے اندر داخل کردیا، فرماتے ہیں کہ اس پر ستر پتلے سانپ مسلط کردیے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی زمین پر پھونک ماردے تو قیامت تک زمین کچھ نہ اگائے ، وہ اسے کاٹتے اور نوچتے ہیں یہاں تک کہ اسے حساب تک پہنچایا جائے گا۔ پھر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
Page 82 of 116

