Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 81 of 116

 حدیث: (486) خوفِ خدا سے نکلتے آنسو

حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ کا ارشاد ہے:

مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوعٌ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ، مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ، ثُمَّ تُصِيبُ شَيْئًا مِنْ حُرِّ وَجْهِهِ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللّٰهُ عَلَى النَّارِ

کوئی مومن بندہ ایسا نہیں جس کی آنکھوں سے اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو بہہ نکلیں اگر چہ مکھی کے سر کے برابر ہی ہوں پھر وہ آنسو اس کے چہرے پر بہہ جائیں مگر اللّٰہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ پر حرام فرمادے گا۔

(سنن ابن ماجہ، حديث: 4197)

 

حدیث: (487) یادِ الٰہی کے فائدے

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

اللّٰہ تعالیٰ قیامت میں فرمائے گا:

أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ

جس بندے نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ مجھ سے خوف کیا ہو (یعنی اس یاد اور خوف کی وجہ سے گناہ سے رک گیا ہو) اسے دوزخ کی آگ سے نکال لو۔

(سنن الترمذی، حدیث:2594)

 

حدیث: (488) گناہ کو معمولی نہ سمجھو

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا، هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ المُوبِقَاتِ

تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ہیں (یعنی تم انہیں معمولی گناہ سمجھتے ہو) ہم رسول اکرم کے زمانے میں انہیں موبقات، یعنی ہلاک کرنے والے گناہ سمجھتے تھے۔

( دیکھیے:صحیح بخاری، حديث: 6492)

 

حدیث: (489) ایک خوبصورت مثال

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم نے فرمایا:

مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ المَنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللّٰهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللّٰهِ الجَنَّةُ

جو ڈرتا ہے وہ اندھیرے میں بیدار ہوتا ہے اور وہی منزل پر پہنچتا ہے خبردار ! اللّٰہ تعالیٰ کا سودا مہنگا ہے، خبردار! اللّٰہ تعالیٰ کا سودا جنت ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2450)

 

حدیث: (490) فکر آخرت

حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ”

اللّٰہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے “ (انعام: 125)

تو حضور نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ النُّورَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ انْفَسَحَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ يُعْرَفُ؟ قَالَ: نَعَمْ، التَّجَافِي عَنْ دَارِ الْغُرُورِ، وَالْإِنَابَةِ إِلَى دَارِ الْخُلُودِ، وَالِاسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِهِ

کہ نور جب سینے میں داخل ہوتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے ،عرض کیا گیا : یا رسول اللّٰہ ! کیا اس کی کوئی علامت ہے جس سے یہ نور پہچانا جائے ؟ فرمایا: ہاں ، دھوکا کی جگہ ، دنیا سے دور رہنا، دائمی گھر (آخرت) کی طرف رجوع کرنا ، موت سے پہلے اس کی تیاری کرنا۔

(شعب الایمان،حديث:10068)

Share:
keyboard_arrow_up