حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور عرض گزار ہوا: یارسول اللہ ﷺ! مجھے وہ عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تو مجھ سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرے اور لوگ بھی ۔ فرمایا:
ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللّٰهُ، وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ
دنیا سے بے رغبت رہو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس کی چیزوں سے بے رغبت رہو، لوگ بھی تم سے محبت کریں گے۔ ( سنن ابن ماجہ،حديث: 4102)
حدیث :(482) مجھے دنیا سے کیا تعلق؟
حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مالک کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک چٹائی پر سوئے پھر بیدار ہوئے تو آپ کے جسم اقدس پر چٹائی کا نشان پڑ گیا تھا، میں نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں اجازت دیتے کہ ہم آپ کے لیے بستر بچھادیتے اور سب انتظام کردیتے، آپ نے فرمایا:
مَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟ إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا
مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میرا اور دنیا کا تعلق ایسا ہے جیسے کوئی سوار درخت کے سائے میں ٹھہرے ، کچھ دیر آرام کے بعد درخت کو چھوڑ کر چلا جائے۔ (سنن ابن ماجہ،حديث: 4109)
حدیث :(483) میرا دن کیسا گزرے؟ رسول اللہ ﷺ کی تمنا
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مختار کل ﷺ نے فرمایا: مجھ پر میرے رب نے پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی زمین کو سونا بنا دیا جائے تو میں نے عرض کی:
لَا. يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ
یارب! نہیں، (میری خواہش یہ ہے کہ )میں ایک دن سیر ہوا کروں اور ایک دن بھوکا رہا کروں، جب بھوکا رہوں تو تیرے لیے عاجزی کروں اور تجھے یاد کروں اور جب سیر ہوجاؤں تو تیری حمد کروں اور تیرا شکر اد ا کروں۔(مسند احمد،حديث: 22190)
حدیث :(484) سب سے بُرا برتن
حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ. بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ
کسی پیٹ سے زیادہ برا بر تن کوئی نہ بھرا، انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں پھر بھی اگر زیادہ ضرورت ہو تو تہائی پیٹ کھانا، تہائی پیٹ پانی اور تہائی پیٹ سانس کے لیے رکھو۔ (سنن الترمذی، حدیث:2380)
حدیث :(485) خوف خدا
حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ نے فرمایا: میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے ، آسمان چر چرارہا ہے (اس کی یہ آوازیں میں سن رہا ہوں) اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے ، آسمانوں میں چار انگشت جگہ ایسی نہیں ، جہاں فرشتہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہ کررہا ہو(مزید فرمایا:)
وَاللّٰهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ، تَجْأَرُونَ إِلَى اللّٰهِ، وَاللّٰهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ
اللہ تعالیٰ کی قسم! اگر تم وہ چیزیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور بہت روتے اور بیویوں سے بستر پر لذت نہ حاصل کرتے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاتے، ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہائے کاش میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔
Page 80 of 116

