Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 9 of 116

حدیث:( 24) احوال برزخ حضور سے پوشیدہ نہیں

حضرت زیدبن ثابت رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ:نبی کریم ﷺ  بنی نجار کے باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے کہ اچانک خچر بدکا، وہاں پانچ چھ قبریں تھیں حضورنے ارشاد فرمایا:

ان قبروں کو کوئی پہچانتا ہے؟ ایک شخص نے عرض کی جی ہاں، ارشاد فرمایا : یہ کب مرے؟ عرض کی: زمانہ شرک میں ، تو حضور نے فرمایا:

إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ

ان لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جارہا ہے اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم مردے دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ یہ عذاب تمہیں بھی سنا دے جو میں سن رہا ہوں۔

پھر ہماری طرف چہرہ کرکے فرمایا:

دوزخ کے عذاب سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو سب نے کہا، ہم دوزخ کے عذاب سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں،

فرمایا: عذاب قبر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو ، سب نے کہا: ہم عذاب قبر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں،

پھر فرمایا: ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم ظاہر و پوشیدہ فتنوں سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں،

پھر فرمایا: دجال کے فتنے سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگو سب نے کہا ہم دجال کے فتنے سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

(صحیح مسلم، حدیث:67 (2867))

 

حدیث:( 25) قبر آخرت کی پہلی منزل ہے

حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کے بارے میں ہے کہ آپ جب قبر پر جاتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہوجاتی۔ لوگوں نے عرض کی آپ جنت و دوزخ کے ذکر پر نہیں روتے قبر پر کیوں روتے ہیں؟

فرمایا کہ سرکار دو عالم  نے فرمایا ہے کہ:

إِنَّ القَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ

قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے اگر اس سے نجات مل گئی تو بعد والی منزلیں اس سے آسان ہیں اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد والی منزلیں بہت سخت ہیں۔

رسول معظم نے فرمایا:

میں نے قبر سے بڑھ کر وحشت ناک کوئی منظر نہیں دیکھا۔

(سنن الترمذی، حدیث: 2308)

 

حدیث:( 26) میلاد النبی منانا سنت ہے

حضرت قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

نور مجسم سے دریافت کیا گیا کہ آپ ہر پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں؟

آپ نے فرمایا:

فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ

اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی کے نزول کا آغاز ہوا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 198 (1162))

 

حدیث:( 27) تعظیم رسول ، صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کا ایمان

حضرت مسور بن محزمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

قریش نے عروہ بن مسعود کو صلح کی گفتگو کے لیے نبی اکرم کی خدمت میں بھیجا انہوں نے جبکہ وہ مسلمان نہ ہوئے تھے۔

صحابہ کرام کا طرز عمل ، ان لفظوں میں کافروں سے بیان کیا:

وَفَدْتُ عَلَى المُلُوكِ، وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللّٰهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا

میں بادشاہوں کے درباروں میں وفد لیکر گیا ہوں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں لیکن خدا کی قسم میں نے کوئی بادشاہ ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی تعظیم اس طرح کرتے ہوں جیسے محمد کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں ۔

خدا کی قسم جب وہ تھوکتے ہیں تو ان کا لعاب دہن کسی نہ کسی آدمی کی ہتھیلی پر ہی گرتا ہے جسے وہ اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا ہے جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو فوراً ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے، جب وہ وضو فرماتے ہیں تو یہی محسوس ہونے لگتا ہے کہ لوگ وضو کے مستعمل پانی کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجائیں گے ، وہ ان کی بارگاہ میں پست آوازوں میں گفتگو کرتے ہیں اور تعظیم کے باعث ان کی طرف نگاہ بھر کے نہیں دیکھ سکتے۔ (دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث: 2731)

Share:
keyboard_arrow_up