حدیث: ( 17) ایمان کیا ہے؟
حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا: یارسول اللّٰہ ﷺ!گناہ کیا ہے؟
فرمایا:
جو تمہارے دل میں چبھے اسے چھوڑدو ،عرض کیا:
فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ، وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ
ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جب تمہیں برے کام سے رنج اور اپنے اچھے عمل سے خوشی حاصل ہو تو تم مومن ہو۔
( مسند احمد،حدیث: 22159)
حدیث:( 18) ایمان کی شاخیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا:
الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ
ایمان کی ستر (70)سے زائد شاخیں ہیں جن میں افضل ترین یہ کہنا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ادنیٰ ترین: کسی تکلیف دہ چیز کا راستے سے ہٹا دینا ہے اور حیا و غیرت بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 58 (35))
حدیث:( 19) چار باتوں پر ایمان
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے:
يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰهِ بَعَثَنِي بِالحَقِّ، وَيُؤْمِنُ بِالمَوْتِ، وَبِالبَعْثِ بَعْدَ المَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالقَدَرِ
یہ گواہی دے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللّٰہ تعالیٰ کا رسول ہوں اور مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ بھیجا اور مرنے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور تقدیر پر ایمان لائے۔ (سنن الترمذی،حدیث: 2145)
حدیث:( 20) ”اسباب “تقدیر کا حصہ ہیں
حضرت ابو خزامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺکی بارگاہ میں سوال کیا کہ:
ہم جھاڑ پھونک، دوا اور پرہیز وغیرہ اختیار کرتے ہیں کیا یہ چیزیں تقدیر کو بدل دیتی ہیں؟
فرمایا:
هِيَ مِنْ قَدَرِ اللّٰهِ
یہ چیزیں بھی تقدیر میں شامل ہیں
(یعنی ان سے فائدہ ملنا یا نہ ملنا بھی تقدیر ہی سے ہے)۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 3437)
حدیث:( 21) وسوسہ معاف ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
نورمجسم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ، أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّم
بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے میری امت سے ان کے وسوسوں کو معاف فرمادیا جب تک کہ اس پر عمل یا زبان سے اظہار نہ کرلیں۔
(صحیح بخاری،حدیث: 6664)
حدیث:(22) ایمان کی لذت
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ
جس میں یہ تین اوصاف ہوں گے وہ ایمان کی لذت پائے گا:
(1) اللّٰہ تعالیٰ اور رسول ﷺکی محبت ہرشے سے بڑھ کر ہو۔
(2) جس شخص سے بھی اسے محبت ہو صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کے لیے ہو۔
(3) ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹنے سے اسے ایسی نفرت ہو جیسی آگ میں ڈالے جانے سے ہوتی ہے۔ ( صحیح بخاری، حدیث: 16)
حدیث:( 23) قبر میں اہم سوال
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی معظم ﷺ نے فرمایا:
جب مُردے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ:
مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
تو ان صاحب یعنی حضرت محمد ﷺ کے متعلق کیا کہتا تھا؟
مومن کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ لے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے جنت کے ٹھکانے میں بدل دیا تو وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے لیکن جب منافق اور کافر سے کہا جاتا ہے کہ تو ان صاحب کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتا تھا تو وہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے میں بھی وہی کہتا تھا تو اسے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا اور نہ قرآن پڑھا پھر اسے لوہے کے ہتھوڑے سے مارا جاتا ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ انسان اور جنات کے سوا تمام چیزیں سنتی ہیں۔
(صحیح بخاری، حدیث: 1338)

