Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 10 of 116

حدیث:(28) جمال مصطفی صحابہ کی نظر میں

حضرت قتادہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ اليَدَيْنِ وَالقَدَمَيْنِ، حَسَنَ الوَجْهِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ

حضور اقدس کے مبارک ہاتھ، پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ انور اتنا حسین تھا کہ آپ جیسا نہ میں نے پہلے کوئی دیکھا اور نہ آپ کے بعد۔( دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث: 5907)

 

 

حدیث:(29 )بے مثل و بے مثال حسن و جمال حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنَ الوَجْهِ، لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ

نور مجسم کا چہرہ اقدس اس قدر حسین و خوبصورت تھا کہ میں نے آپ کی مثل کوئی اور نہیں دیکھا۔

(دیکھیے: صحیح بخاری، حدیث: 5908)

حدیث:( 30) حضور کا پسینہ مبارک باعث برکت ہے

حضرت اُمّ سُلیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ:

رسول اللّٰہ ان کے گھر بستر پر آرام فرما تھے، آپ کو پسینہ آرہا تھا ، حضرت اُمّ سُلیم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا آپ کا پسینہ جمع کرنے لگیں ،

نبی کریم نے فرمایا:

مَا تَصْنَعِينَ؟ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: أَصَبْتِ اُمّ سُلیم

یہ کیا کررہی ہو؟عرض کی : یارسول اللّٰہ ہم اس سے اپنے بچوں کے لیے برکت کی امید رکھتے ہیں ، آپ نے فرمایا: تم ٹھیک کرتی ہو۔ (صحیح مسلم، حدیث: 84 (2331))

 

حدیث:( 31) حضور کے وضو کے پانی سے برکت حاصل کرنا

حضرت ابو جُحَیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:

میں نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام چمڑے کے سرخ خیمے میں تشریف فرما ہیں اور حضرت بلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ حضور کے وضو کا استعمال شدہ پانی برتن میں لیے کھڑے ہیں

وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ

اور لوگ اس پانی کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں تو جس کو وہ پانی مل گیا اس نے اسے اپنے جسم پر مل لیا اور جسے نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے تری لے لی۔ ( صحیح بخاری، حدیث: 376)

 

حدیث:( 32) حضور کے موئے مبارک سے برکت حاصل کرنا

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

میں نے رسول اکرم کو دیکھا کہ حجام ان کے بال مبارک تراش رہا ہے۔

وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ

اور صحابہ کرام ان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں اور نہیں چاہتے کہ حضور کا ایک بال بھی کسی کے ہاتھ میں آنے کے بجائے زمین پر گرے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 75 (2325))

 

حدیث:( 33) موئے مبارک کا بے ادب جہنمی ہے

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے روایت ہے کہ:

میں نے رسول اللّٰہ کو دیکھا کہ آپ اپنا موئے مبارک ہاتھ میں لیے ہوئے ارشاد فرمارہے ہیں کہ

جس نے میرے ایک بال کی بھی بے ادبی کی اس پر جنت حرام ہے۔( کنز العمال، حدیث:35351)

Share:
keyboard_arrow_up