حدیث:( 34) صحابہ کا حضور ﷺ کے ہاتھ پاؤں چومنا
حضرت زارع رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عبد القیس کے وفد میں تھے، فرماتے ہیں:
جب ہم مدینہ طیبہ آئے تو ہم اپنی سواریوں سے اترنے میں جلدی کرنے لگے
فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ
پھر ہم نے رسول اللّٰہ ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا۔ (سنن ابی داؤد،حدیث: 5225)
حدیث:( 35) حضورﷺ کے موئے مبارک باعث فتح و نصرت
حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں نے نور مجسم ﷺ کے موئے مبارک اپنی ٹوپی میں رکھ لیے ہیں، میں جس جنگ میں بھی جاتا ہوں ان کی برکت سے ضرور فتح پاتا ہوں۔ (دیکھیے: اتحاف الخیرۃ المھرۃ،حدیث:6446)
حدیث:( 36) حضور ﷺ کے چھونے پر تعظیم و توقیر
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
میرے سر کے اگلے حصہ پر لمبے بال تھے ،میری والدہ فرماتی تھیں کہ میں ان بالوں کو نہ کاٹوں گی کیونکہ
كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا، وَيَأْخُذُ بِهَا
حضور ﷺ انہیں کھینچتے اور پکڑتے تھے۔ ( سنن ابو داؤد ، حدیث: 4196)
حدیث:(37) حضور ﷺ کے تبرکات کی حفاظت و تعظیم
حضرت ابو بردہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو مجھے حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ ملے ،انہوں نے فرمایا:
انْطَلِقْ إِلَى المَنْزِلِ،فَأَسْقِيَكَ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
میرے گھر چلو تاکہ میں تمہیں اُس پیالے میں پلاؤں جس میں رسول معظم ﷺ پیا کرتے تھے۔
اور اس مسجد میں نماز پڑھاؤں جس میں نبی مکرم ﷺ نے نماز پڑھی پھر میں ان کے ساتھ ان کے گھر گیا تو انہوں نے مجھے اس پیالے میں ستو پلائے کھجوریں کھلائیں اور پھر میں نے ان کی مسجد میں نماز پڑھی۔ ( صحیح بخاری، حدیث: 7341)
حدیث:( 38) حضور ﷺ کی پیروی اصل عبادت ہے
حضرت مجاہد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:
ہم ایک سفر میں حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ تھے، جب ایک مقام پر ہم لوگ پہنچے تو حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما ایک طرف ہٹ کر چلنے لگے ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے فرمایا:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَذَا فَفَعَلْتُ
کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ ( مسند احمد،حدیث: 4870)
حدیث:( 39) کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں
حضرت ابن سیرین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
میں حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا، جب ہم مزدلفہ کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک تنگ گھاٹی پر حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما نے اپنی اونٹنی بٹھا دی ہم نے سمجھا کہ شاید وہ یہاں نماز پڑھنا چاہتے ہیں، ان کے خادم نے جو ان کی اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھا ، کہنے لگا: وہ یہاں نماز نہیں پڑھنا چاہتے بلکہ انہیں یاد آیا ہے کہ سفر حج کے دوران نبی کریم ﷺ جب یہاں پہنچے تھے تو اونٹنی سے اتر کر رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما بھی حضور ﷺ کی محبت میں ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔
(دیکھیے: الترغیب والترہیب،حدیث: 76)
حدیث:( 40) محبت رسول ﷺ کا انوکھا انداز
حضرت اسید بن حضیر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جو انصاری صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ:
ان کی طبیعت میں خوش طبعی زیادہ تھی چنانچہ وہ لوگوں سے خوش طبعی کررہے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے(خوش طبعی کے طور پر) ان کی کمر میں چھڑی چبھودی انہوں نے عرض کی: مجھے قصاص دیجیے،
فرمایا : قصاص لے لو، انہوں نے عرض کی: یارسول اللّٰہ ﷺ آپ کے بدن پر قمیص ہے اور میرے بدن پر نہیں تھی ، تو نبی کریم ﷺ نے اپنی قمیص اٹھادی تو وہ فوراً حضورﷺ سے لپٹ گئے اور آپ کی کمر مبارک کو چومنے لگے پھر عرض کی:
میرے آقا! میں نے تو دراصل یہی چاہا تھا کہ اس طرح آپ کے جسم اقدس کا قرب اور اسے بوسہ دینے کا شرف حاصل ہو جائے گا۔(سنن ابی داؤد، حدیث:5224)

