Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 12 of 116

حدیث:( 41) حضور بے مثل بشر ہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم نے رات دن پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا، تو ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللّٰہ آپ بھی تو رات دن ،پے در پے روزے رکھتے ہیں؟

آپ نے فرمایا:

أَيُّكُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِين

تم میں کون میری مثل ہے؟

(تمام صحابہ خاموش رہے) پھر فرمایا: بے شک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔( صحیح بخاری ، حدیث: 6851)

 

حدیث: (42) خصائص مصطفی

حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول معظم نے فرمایا:

میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے قبر سے باہر آئے گا اور جو سب سے پہلے شفاعت فرمائے گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (صحیح مسلم، حدیث: 3 (2278))

 

حدیث:( 43) حضور اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب ہیں

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

بے شک ابراہیم علیہ السلام اللّٰہ تعالیٰ کے خلیل ہیں اور وہ ایسے ہی ہیں اور موسیٰ علیہ السلام اللّٰہ تعالیٰ سے راز کی بات کرنے والے ہیں واقعی وہ ایسے ہی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اللّٰہ تعالیٰ کی روح اور کلمہ ہیں اور آدم علیہ السلام کو اللّٰہ تعالیٰ نے برگزیدہ کیا واقعی وہ ایسے ہی ہیں مگر یاد رکھو!

وَأَنَا حَبِيبُ اللّٰهِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الحَمْدِ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ يَوْمَ القِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُحَرِّكُ حِلَقَ الجَنَّةِ فَيَفْتَحُ اللّٰهُ لِي فَيُدْخِلُنِيهَا وَمَعِي فُقَرَاءُ المُؤْمِنِينَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَكْرَمُ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ وَلَا فَخْرَ

میں اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب ہوں، میں فخریہ نہیں کہتا ،قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میں ہی اٹھائے ہوئے ہوں گا (جس کے نیچے آدم علیہ السلام اور سب لوگ ہوں گے۔) فخریہ نہیں کہتا ، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور قیامت کے دن سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی ،فخریہ نہیں کہتا، میں وہ ہوں جو سب سے پہلے جنت کی زنجیر ہلائے گا ، تو اللّٰہ تعالیٰ اس میں مجھے داخل فرمائے گا، میرے ساتھ غریب مسلمان ہوں گے ، فخریہ نہیں کہتا ، میں سارے اگلوں پچھلوں میں اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ عزت والا ہوں اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا۔ (دیکھیے :سنن الترمذی، حدیث: 3616)

 

حدیث:( 44) فضائل رسول بیان کرنا سنت ہے

مطّلِب بن ابی وَداعہ کہتے ہیں کہ نبی کریم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا:

میں کون ہوں؟ صحابہ نے عرض کی: آپ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔

ارشاد فرمایا:

أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ، إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ الخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ فِرْقَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ قَبَائِلَ، فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ قَبِيلَةً، ثُمَّ جَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا وَخَيْرِهِمْ نَسَبًا

میں محمد  بن عبد اللّٰہ بن عبد المطلب ہوں، اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان میں بہترین مخلوق یعنی انسانوں میں پیدا فرمایا، پھر اس بہتر مخلوق کے دو حصے کیے تو مجھے بہتر حصے یعنی عرب میں پیدا فرمایا، پھر ان اچھوں کے کئی قبیلے بنائے تو مجھے بہترین قبیلہ (یعنی قریش) میں پیدا فرمایا اور پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانے (یعنی بنو ہاشم) میں پیدا فرمایا، پس میں ذاتی شرف اور گھرانے کے اعتبار سے بھی ساری مخلوق سے افضل ہوں۔

( دیکھیے: سنن الترمذی ، حدیث: 3532)

Share:
keyboard_arrow_up