Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 13 of 116

حدیث:( 45) حضور نے اپنا میلاد بیان فرمایا

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

إِنِّي عِنْدَ اللّٰهِ مَكْتُوبٌ خَاتِمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ

میں اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک آخری نبی لکھا جاچکا تھا، جبکہ آدم علیہ السلام کا جسم اقدس تیار نہ ہوا تھا۔

میں تم کو اپنی اوّل حالت بتاتا ہوں، میں دعائے ابراہیم اور بشارت عیسیٰ علیہم السلام ہوں، میں اپنی والدہ کا وہ نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ انکے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے انہیں شام کے محل نظر آگئے۔ (شرح السنہ للبغوی، حدیث: 3626)

 

حدیث:(46) حضور اللّٰہ تعالیٰ کا نور ہیں

حضرت جابر بن عبد اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:

انہوں نے سوال کیا، یارسول اللّٰہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھ کو خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے کونسی چیز پیدا کی؟

آپ نے فرمایا:

قَالَ: يَا جَابِرُ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْأَشْيَاءِ نُورَ نَبِيِّكَ مِنْ نُورِهِ

اے جابر اللّٰہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور (کے فیض)سے پیدا کیا۔

پھر وہ نور قدرتِ الٰہیہ سے جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم اور نہ بہشت تھی نہ دوزخ اور نہ فرشتہ تھا اور آسمان تھا نہ زمین اور نہ سورج تھا نہ چاند اور نہ جن تھا نہ انسان۔ (مواہب اللدنیہ71/1)

 

حدیث: (47) نور نبوت کی تخلیق

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام  نے بارگاہ رسالت میں عرض کی:

مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ یارسول اللّٰہ ﷺ

آپ کو نبوت کے شرف سے کب بہرہ ور کیا گیا تھا؟ حضورنے فرمایا: اس وقت جب کہ آدم علیہ السلام روح اور بدن کے درمیان تھے یعنی ان کی تخلیق بھی عمل میں نہیں آئی تھی۔

(سنن الترمذی ، حدیث: 3609)

 

حدیث:( 48) حضور علیہ السلام  نے دیدار الٰہی کیا

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول مکرم نے ارشاد فرمایا:

رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ

میں نے اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا ہے۔(مسند احمد ،حدیث: 2580)

 

حدیث:(49) حضور کے علم کی وسعت

حضرت عبد الرحمٰن بن عائش رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا:

میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا ،رب تعالیٰ نے پوچھا: مقرب فرشتے کس بارے میں نزع کرتے ہیں؟

میں نے عرض کی : تو ہی جانتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا، جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی

فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

تو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب میں نے جان لیا۔

(مشکاۃ المصابیح ،حدیث:725)

 

حدیث: (50) علم غیب مصطفیٰ

حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے طویل روایت میں ہے کہ:

حضور نے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لا کر ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا پھر ظہر پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لاکر ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ نے عصر پڑھائی اور پھر منبر پر جلوہ فرما ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا۔

فَأَخْبَرَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا

تو اس خطبہ میں حضور نے ہمیں اس دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ آئندہ ہوگا ، سب کی خبر دے دی تو ہم لوگوں میں سب سے بڑا عالم وہ شخص ہے جسے حضور کی بتائی ہوئی باتیں زیادہ یاد ہیں۔(صحیح مسلم ، حدیث: 25 (2892))

Share:
keyboard_arrow_up