حدیث:( 51) حضور ﷺ ما کان و مایکون کی خبر رکھتے ہیں
حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضور ﷺ ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے:
فَأَخْبَرَنَا عَنْ بَدْءِ الخَلْقِ، حَتَّى دَخَلَ أَهْلُ الجَنَّةِ مَنَازِلَهُمْ، وَأَهْلُ النَّارِ مَنَازِلَهُمْ
اور آپ ﷺ نے ابتدائے تخلیق سے لے کر جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہونے تک کے سارے حالات کی ہمیں خبر دی۔
جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ (صحیح بخاری ، حدیث: 3192)
حدیث:( 52) حضورﷺ جنتی کو پہچانتے ہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بارگاہ نبوی میں عرض کی:
یارسول اللّٰہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتائیے جس کے کرنے سے میں جنت میں جاسکوں؟
فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔
اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اس پر زیادتی(اضافہ) نہیں کروں گا، جب وہ شخص چلا گیا تو حضورﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔
(دیکھیے: صحیح بخاری ،حدیث: 1397)
حدیث:( 53) مجھے تم پر شرک میں مبتلا ہونے کا خوف نہیں
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا:
بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔
وَإِنِّي وَاللّٰهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الآنَ
بیشک خدا کی قسم میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں
اور بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کردی گئیں ہیں۔
وَإِنِّي وَاللّٰهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا
اور بے شک مجھے یہ خطرہ نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے جال میں پھنس جاؤ گے۔ (دیکھیے: صحیح بخاری ، حدیث: 1344)
حدیث:( 54) حضور ﷺ کے لیے کوئی شے حجاب نہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
کیا تم خیال کرتے ہو کہ میرا قبلہ یہ ہے۔
فَوَاللّٰهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلاَ رُكُوعُكُمْ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
خدا کی قسم مجھ پر نہ تمہارا خشوع پوشیدہ ہے نہ تمہارا رکوع، میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
( صحیح بخاری ، حدیث: 418)
حدیث:(55) سماعت و بصارت مصطفی ﷺ
حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺنے فرمایا:
إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ، وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ
میں وہ وہ چیزیں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ وہ آوازیں سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چر چرارہا ہے اور اس کو ایسا ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس میں کہیں چار انگشت برابر جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ سجدہ میں نہ ہو۔
(سنن الترمذی ،حدیث: 2312)

