حدیث:( 56) حضور ﷺ تک درود پہنچتا ہے.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ
مجھ پر درود بھیجا کرو، تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے خواہ تم کہیں بھی ہو۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:2024)
حدیث:( 57) حضور ﷺہمارے درود خود سنتے ہیں
حضرت ابو درداء رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا:
جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ وہ یوم مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ، إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ
کوئی بندہ (کسی جگہ سے بھی) مجھ پر درود نہیں پڑھتا مگر اس کا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے ۔
ہم نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ ﷺ کیا آپ کے وصال کے بعد بھی ؟
آپ نے فرمایا: ہاں میرے وصال کے بعد بھی ؟
فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ
بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے۔
(دیکھیے: سنن ابن ماجہ ،حدیث: 1637)
حدیث:( 58) حضور ﷺ ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللّٰہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللّٰهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ
جب کوئی مجھ پر سلام بھیجے تو اللّٰہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا
(یعنی میری روح کی توجہ سلام بھیجنے والے کی طرف ہوجاتی ہے) یہاں تک کہ میں اس کو اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
(سنن ابی داؤد ، حدیث: 2041)
حدیث:( 59) پہاڑوں اور درختوں کا حضور ﷺ کو سلام کرنا
حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ سے روایت ہے کہ:
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے نواح میں گئے
فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ
تو جو پہاڑ یا درخت آپ کے سامنے آتا ،وہ کہتا: السلام علیک یا رسول اللّٰہ۔
(سنن الترمذی ، حدیث: 3626)
حدیث: (60) حضور ﷺ سے کوئی شے پوشیدہ نہیں۔
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ نے میرے لیے دنیا کو ظاہر فرمایا:
فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى كَفِّي هَذِهِ
پس میں دنیا کو اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔
(حلیۃ الاولیاء،1/107، حدیث :7979)
حدیث:( 61) مشرق و مغرب حضور ﷺ کے سامنے ہیں۔
حضرت ثوبان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا
بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی تو میں نے زمین کے مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا۔
(صحیح مسلم ،حدیث: 19 (2889)
حدیث:( 62) حضور ﷺ کی زبان سے ہمیشہ حق نکلتا ہے۔
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ:
میں جو کچھ حضور ﷺ سے سنتا لکھ لیتا۔ قریش نے مجھ سے کہا: حضور سے سنی ہوئی ہر بات نہ لکھا کرو کیونکہ ممکن ہے کہ حضور ﷺ کبھی غصہ و غضب کی حالت میں ہوں تو میں لکھنے سے رک گیا اور اس بات کو حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا، حضورﷺ نے اپنی مبارک انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ
لکھو، خدا کی قسم! اس منہ سے سوائے حق کے اور کچھ نہیں نکلتا۔
(دیکھیے: سنن ابی داؤد، حدیث: 3646)

