Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 78 of 116

حدیث: (467) حقیقی قابلِ رشک کون؟

حضرت ابو امامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم نے فرمایا:

إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي عَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ، أَطَاعَ رَبَّهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَتَهُ فِي السِّرِّ، وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِع وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا

میرے دوستوں میں قابل رشک وہ مومن ہے جو کم سامان والا اور نماز کے بڑے حصے والا ہو، وہ اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کرے اور خفیہ اس کی اطاعت کرے اور لوگوں میں پوشیدہ رہے تاکہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کیے جائیں (یعنی وہ خود شہرت کا طلبگار نہ ہو) اور اس کا رزق بقدر ضرورت ہو۔

 

پھر حضور نے ہاتھ سے چٹکی بجائی اور فرمایا:
اس کی موت جلدی آجائے ، اس پر رونے والیاں کم ہوں اور اسکی میراث بھی کم ہو۔

(دیکھیے: مسند احمد،حدیث: 22197)

 

حدیث: (468) خاموشی پر قائم رہنا

حضرت عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا نے فرمایا:

مَقَامُ الرَّجُلِ لِلصَّمْتِ أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّينَ سَنَةً

انسان کا خاموشی پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔

(شعب الایمان، حدیث:4602)

 

حدیث: (469) رسول اللّٰہ دلنشین اندازِ تفہیم

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

هَلْ مِنْ أَحَدٍ مَشَى عَلَى الْمَاءِ إِلَّا ابْتَلَّتْ قَدَمَاهُ؟ \" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: \" كَذَلِكَ صَاحِبُ الدُّنْيَا لَا يَسْلَمُ مِنَ الذُّنُوبِ

کیا کوئی ایسا ہے جو پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں یا رسولُ اللّٰہ ، فرمایا: اسی طرح دنیادار گناہوں سے محفوظ نہیں رہتا۔ (دنیاداری سے مراد ایسی دنیا داری ہے جو اللّٰہ عزوجل اور رسول کی اطاعت سے غافل رکھے)

(شعب الایمان، حديث:9973)

 

حدیث: (470) مجاہدہ

حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

جب اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا میں ہی اس کو جلد سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا قصد فرماتا ہے تو گناہ کے باوجود اس کی سزا روک رکھتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔

نیز نبی کریم نے یہ بھی فرمایا:

ثواب کی زیادتی مصائب کی زیادتی پر موقوف ہے اور اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے اسے آزماتا ہے پس (اس حالت میں) جو خوش رہا اس کے لیے (اللّٰہ تعالیٰ کی) رضا ہے اور جو نا خوش ہوا اس کے لیے ناراضی ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:2396)

 

حدیث: (471) جنت تکالیف سے گھری ہوئی ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ نے فرمایا:

حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ

آگ خواہشات سے گھیر دی گئی ہے اور جنت تکالیف سے گھیر دی گئی ہے۔

(صحیح بخاری، حديث: 6487)

 

حدیث: (472) جنّت کے لیے خوب کوشش کرو!

حضرت کلیب بن حزن رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم کو یہ فرماتے سنا:

اے لوگو! انتہائی کوشش (مجاہدہ) کے ذریعے جنت کے طالب بنو اور انتہائی کوشش (مجاہدہ) کے ساتھ دوزخ سے بچنے کی فکر کرو کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا چاہنے والا سو نہیں سکتا اور آگ بھی ایسی چیز ہے جس سے بھاگنے والا غافل نہیں ہوسکتا اور آخرت نا خوش گوار چیزوں سے گھیر دی گئی ہے اور دنیا لذتوں اور خواہشوں سے گھری ہوئی ہے۔( پس دنیا کی لذتیں اور خواہشیں تم کو آخرت سے غافل نہ کردیں۔ )

(المعجم الکبیر،حديث:449)

حدیث: (473) دنیا مؤمن کا قید خانہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِر

دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔

(صحیح مسلم،حديث: 1 (2956))

Share:
keyboard_arrow_up