حدیث: (462) اللّٰہ تعالیٰ کے لیے محبت
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا:
أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
کہاں ہیں میری عظمت کے لیے آپس میں محبت کرنے والے؟ آج میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں گا جبکہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں۔
(صحیح مسلم،حديث:37 (2566))
حدیث: (463) صرف اللّٰہ کے لیے محبت
حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ کے بعض بندے وہ ہیں جو نہ تو نبی ہیں نہ شہید، ان پر انبیاء اور شہداء قیامت کے دن ان کے قرب الٰہی کی وجہ سے رشک کریں گے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ ﷺ ! ہمیں خبر دیجئے وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا:
هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللّٰهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ، وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا، فَوَاللّٰهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ عَلَى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ
وہ، وہ قوم ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے قرآن کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، بغیر آپس کی قرابت داری کے بغیر آپس کے مالی لین دین کے تو اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہوں گے
اور یہ آیت تلاوت فرمائی
(ترجمہ) ” خبردار رہو! بے شک اللّٰہ تعالیٰ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم“۔
(سنن ابی داؤد، حديث: 3527)
حدیث: (464) بندہ محبوب کے ساتھ ہوگا
حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں آیا اور عرض کی: یارسول اللّٰہ ﷺ آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرے اور ان سے نہ ملا ہو ، فرمایا:
المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے۔
( صحیح بخاری،حديث: 6169)
حدیث: (465) اللّٰہ کی محبت لازم ہے
حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا:
میری محبت، میرے لیے محبت کرنے والوں اور میرے لیے بیٹھنے والوں، ملاقات کرنے والوں اور میری راہ میں خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہوگئی۔
(مشکاۃ المصابیح،حديث:5051)
حدیث: (466) گوشہ نشینی
حضرت عمران بن حطان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
میں حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو میں نے انہیں کالے کمبل میں اکیلے ٹیک لگائے بیٹھے پایا، میں نے کہا: ابو ذر ! یہ گوشہ نشینی کیسی؟
فرمایا:میں نے رسول اللّٰہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ:
الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السَّوْءِ، وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ، وَإِمْلَاءً الْخَيْرُ خَيْرٌ مِنَ السُّكُوتِ، وَالسُّكُوتُ خَيْرٌ مِنْ إِمْلَاءِ الشَّرِّ
تنہائی بہتر ہے برے ساتھی سے اور اچھا ساتھی بہتر ہے تنہائی سے اور اچھی بات بولنا بہتر ہے خاموشی سے اور خاموشی بہتر ہے بری بات بولنے سے۔
(شعب الایمان، حديث:4639)

