Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 75 of 116
عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ
لوگوں سے قریب رہنے والے ، آسانی کرنے والے اور نرم اخلاق والے ۔
(سنن الترمذی، حديث: 2488)
حدیث :( 448) سہولت اختیار کرو جب تک بھلائی ہو
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب دو کاموں کا اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے ہمیشہ آسان کام منتخب کیا جبکہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ ہوتا تو حضور ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے ۔
وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللّٰهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ بِهَا
اور حضور ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی بات کا انتقام نہیں لیا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بے حرمتی ہوتی تو سرکار دو عالم ﷺ اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا انتقام لیتے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 3560)
حدیث :( 449) اسلام کی برکت
حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ
وہ شخص کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور اسے بقدر کفایت رزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے دیے ہوئے پر قناعت دی۔(صحیح مسلم، حديث: 125 (1054))
حدیث :( 450) اصل مال داری کیاہے؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
زیادہ مال و اسباب والا دولتمند نہیں ہوتا بلکہ دولتمند وہ ہوتا ہے جس کا نفس غنی ہو (یعنی صابر و قانع ہو)۔(صحیح مسلم،حديث: 120 (1051))
حدیث :( 451) تھوڑے پر راضی رہنا
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
وَمَنْ رَضِيَ بِالْقَلِيلِ مِنَ الرِّزْقِ رَضِيَ اللهُ مِنْهُ بِالْقَلِيلِ مِنَ الْعَمَلِ
جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوگا۔(شعب الایمان، حديث:9531)
حدیث :( 452) ساری دنیا کی دولت کے برابر
حضرت عبید اللہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا
جو شخص تم میں سے اس حال میں صبح کرے کہ اس کے دل میں امن و امان اور جسم میں تندرستی اور اس کے پاس دن کاکھانا ہو تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2346)
حدیث :( 453) غفلت والے زیادہ سے ، بیداری والا کم اچھا
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد ہے:
جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے اس کے دونوں طرف دو فرشتے پکارتے ہیں سوائے جن و انس کے ساری مخلوق کو سناتے ہیں:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى
اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ جو تھوڑا ہو اور کافی ہو وہ اس سے اچھا ہے جو زیادہ ہو اور غافل کردے۔(حلیۃ الاولیاء، 1/288، حدیث: 763)
حدیث :( 454) اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال صرف تین ہیں:
مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى، وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ، وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ
Share:
keyboard_arrow_up