Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 70 of 116
شہید کو شہادت کے وقت صرف اتنی سی تکلیف محسوس ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کے کاٹ لینے سے ہوتی ہے۔(سنن الترمذی، حدیث:1668)
حدیث:( 411)شہید کی آرزو
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جنت میں جانے کے بعد کوئی جنتی دنیا میں واپس آنے کو پسند نہیں کرے گا خواہ اسے زمین کی تمام نعمتیں مل جائیں، سوائے شہید کے،
فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ
کیونکہ شہید یہ آرزو کرے گا کہ کاش وہ دنیا میں واپس آجائے اور راہ خدا میں دس بار مارا جائے کیونکہ وہ شہادت کی عظمت اور ثواب کو جانتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 109 (1877))
حدیث:( 412) شہادت کی قسمیں
حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو شخص دین کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنی جان کی حفاظت میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔(سنن الترمذی، حدیث:1421)
حدیث:(413) صبر
حضرت محمد بن خالدسُلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غیب بتانے والے آقاﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ایک اعلیٰ مقام عطا فرمانا چاہتا ہے جسے وہ نیکی سے حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے جان و مال اور اولاد کی پریشانیوں میں مبتلا کردیتا ہے
ثُمَّ صَبَّرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنْهُ
اور اس بندے کو صبر بھی عطا کرتا ہے یہاں تک کہ وہ بندہ اس اعلیٰ مقام کو حاصل کرلیتا ہے۔
(مسند احمد، حدیث:22338)
حدیث:( 414)مصائب کا اخروی اجر
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
يَوَدُّ أَهْلُ العَافِيَةِ يَوْمَ القِيَامَةِ حِينَ يُعْطَى أَهْلُ البَلَاءِ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ قُرِضَتْ فِي الدُّنْيَا بِالمَقَارِيضِ
قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو اجر و ثواب دیاجائے گا تو وہ لوگ جو دنیا میں پریشانیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے تھے تمنا کریں گے کہ کاش ہمارے جسم دنیا میں قینچیوں سے کاٹ دیے جاتے۔ (سنن الترمذی، حدیث: 2402)
حدیث:( 415) پریشانیاں، گناہوں کا کفارہ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ،ابْتَلَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
جب کسی بندے کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور اس کے پاس اتنی نیکیاں نہیں ہوتیں کہ ان گناہوں کا کفارہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اس کو پریشانیوں میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے۔
(مسند احمد، حدیث:25236)
حدیث:( 416) کانٹا چبھنا بھی سبب بخشش
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو تھکاوٹ، بیماری، غم ، تکلیف وغیرہ پہنچے
حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
Share:
keyboard_arrow_up