حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رہبر مکرم ﷺ نے فرمایا:
بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ
میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ ( دیکھیے: موطا امام مالك ، حدیث: 8)
حدیث:( 404) کامل ایمان والا کون؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا
مسلمانوں میں کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔(سنن ابی داؤد، حدیث:4682)
حدیث:( 405) سچ کو لازم پکڑ لو
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللهِ صِدِّيقًا
سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔
اور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ برائی کی طرف رہبری کرتا ہے اور برائی آگ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔(صحيح مسلم، حدیث: 105(2607))
حدیث:( 406) تجارت میں برکت کا سبب
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ﷺ کاارشاد ہے: خریدو فروخت کرنے والے جدا ہونے سے پہلے مختار ہیں
فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا
اگر سچ بولیں اور (اپنی چیز کا عیب) بتادیں تو انکی تجارت میں برکت ہوگی اور اگر چھپائیں اورجھوٹ بولیں تو ان کے کاروبار میں برکت نہ رہے گی۔
(صحیح بخاری، حدیث: 2082)
حدیث:( 407)شک سے بچو
حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے آقا و مولیٰ ﷺ سے (سن کر) یہ کلمات یاد کیے:
دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الكَذِبَ رِيبَةٌ
شک والی چیزوں کو چھوڑ کر غیر مشکوک چیزیں اختیار کرو، سچائی باعث اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ کا موجب ہے۔( سنن الترمذی، حدیث: 2518)
حدیث:(408)چارخوبیاں
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ ﷺ نے فرمایا: جب تجھ میں چار خوبیاں ہوں تو تو پرواہ نہ کر اگر دنیا تجھ سے الگ رہے (وہ خوبیاں یہ ہیں:)
حِفْظُ أَمَانَةٍ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ
امانت داری، سچ بولنا، اچھی عادت اور حلال کھانا۔(مسند احمد،حدیث:6652)
حدیث:( 409) شہادت کی تمنا
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَأَلَ اللهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ
جو شخص اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے شہادت کی آرزو کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو شہید کا مرتبہ عطا فرماتا ہے اگر چہ وہ اپنے بستر پر ہی وفات پا جائے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 157 (1909))
حدیث:( 410)شہید کو تکلیف نہیں ہوتی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ القَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ القَرْصَةِ
Page 69 of 116

