هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
وہاں یعنی نجد میں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ (شیطانی گروہ) وہیں سے نکلے گا۔
(صحیح بخاری، حدیث: 7094)
(ان احادیث میں دی گئی پیشن گوئی کے مطابق نجد میں ذو الخویصرہ تمیمی کی نسل میں ابن عبد الوہاب نجدی نے وہابیت کا فتنہ پیدا کیااور مسلمانوں کو مشرک قرار دے کر انکا قتل عام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین)
حدیث:( 400)نئی نئی جھوٹی باتیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ
آخری زمانہ میں دھوکا دینے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کا ایک گروہ ہوگا جو تمہارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے جنہیں نہ کبھی تم نے سنا ہو گا نہ تمہارے باپ دادا نے، تو تم ایسے لوگوں سے بچو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمہیں گمرا ہ نہ کریں اور نہ فتنہ میں مبتلا کریں۔(صحیح مسلم، حدیث: 7 (7))
باب پنجم: منجیات
وسعتیں دی ہیں خدا نے دامن محبوب کو
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے
سرور دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر
نفس و شیطاں، سیّدا کب تک دباتے جائیں گے
ارشادات باری تعالیٰ
ترجمہ کنزالایمان: اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان وزمین آجائیں پرہیزگاروں کے لیے تیار رکھی ہے ، وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں ایسوں کا بدلہ اُن کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں(نیک لوگوں) کاکیا اچھا نیگ (بدلہ)ہے۔(پ 4، اٰل عمرٰن: 133 تا 136)
ترجمہ کنزالایمان: اس زمانۂِ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی (ف۴) اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
(پ 30، العصر: 1 تا 3)
حدیث:( 401) حسن خلق
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
جو جھوٹ چھوڑدے جو کہ باطل چیز ہے اس کے لیے جنت کے کنارے پر گھر بنایا جائے گا اور جو لڑائی جھگڑے چھوڑ دے حالانکہ حق پر ہو اس کے لیے جنت کے بیچ میں گھر بنایا جائے گا
وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا
اور جس کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں گھر بنایاجائے گا۔
(سنن الترمذی، حدیث:1993)
حدیث:( 402)جنت دلانے والے دو عمل
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر لوگ جنت میں کس عمل کی وجہ سے داخل ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
التَّقْوَى، وَحُسْنُ الْخُلُقِ
تقویٰ اور اخلاقِ حسنہ کی وجہ سے
آپ سے دریافت کیا گیا کہ کون سے عمل کی وجہ سے زیادہ لوگ دوزخ میں جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرمگاہ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث:4246)
حدیث:(403) رسول اللہ ﷺ کا مقصد بعثت
Page 68 of 116

