لَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ، فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ
زیادہ نہ ہنسا کرو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنادیتا ہے۔(دیکھیے: مسند احمد،حدیث:8095)
حدیث:( 396)زیادہ روؤ اور کم ہنسو
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم لوگ ان حقیقتوں کو جان لو جنہیں میں جانتا ہوں تو تم بہت زیادہ روؤ اور کم ہنسو۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6637)
حدیث:( 397)پہاڑ سے بھی مضبوط ایمان
حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ بھی ہنستے تھے؟ آپ نے فرمایا:
نَعَمْ وَالْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ
ہاں، وہ ہنستے تھے حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوطی سے جما ہوا تھا۔
اور بلال بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے صحابہ کو دوڑنے کا مقابلہ کرتے اور انہیں آپس میں ہنستے ہوئے بھی دیکھا ہے لیکن جب رات ہوتی تو وہ راہب یعنی تارک الدنیا بن جاتے۔
(مشکاۃ المصابیح، حدیث:4749)
حدیث:( 398) نجدی فتنہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ (نبی کریم ﷺمال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ) ایک نجدی شخص (ابن ذوالخویصرہ تمیمی) آیا جسکی آنکھیں
فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ العَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقٌ
اندر کو دھنسی ہوئی ، گال پھولے ہوئے، پیشانی ابھری ہوئی ، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا۔
اس نے کہا : اے محمد (ﷺ) ! اللہ سے ڈرو۔ نبی مکرم ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اطاعت کون کرتا ہے اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں؟ حالانکہ اس نے مجھے اہل زمین کے لیے امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں مانتے۔ صحابہ میں سے ایک شخص نے اسے قتل کرنے کی اجازت مانگی ، غالباً وہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، حضور ﷺ نے انہیں منع فرمادیا ، جب وہ شخص چلا گیا تو غیب بتانے والے آقا ﷺنے فرمایا: اس شخص کی نسل سے ایسی قوم پیدا ہوگی کہ
قَوْمًا يَقْرَءُونَ القُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے، اگر میں انہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح ان کو قتل کردوں۔(دیکھئے: صحیح بخاری، حدیث: 3344)
حدیث:( 399)شیطان کا سینگ
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی:
اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا
اے اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے شام میں برکت دے، اے اللہ تعالیٰ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔ کچھ لوگوں نے عرض کی نجد کے لیے بھی دعا فرمائیے، آپ نے پھر شام اور یمن کے لیے ہی برکت کی دعا فرمائی، لوگوں نے پھر نجد کے لیے دعا کی درخواست کی، لیکن آپ نے پھر شام اور یمن ہی کے لیے دعا فرمائی، لوگوں کے تیسری بار عرض کرنے پر آپ نے فرمایا:
Page 67 of 116

