حدیث: (388) بارگاہِ الٰہی میں دنیا کی حیثیت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:
أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا إِلَّا ذِكْرُ اللّٰهِ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ
خبردار! بے شک دنیا ملعون ہے اور جو چیزیں اس میں ہیں وہ بھی ملعون ہیں مگر ذکر الٰہی اور وہ چیزیں جنہیں رب تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اور عالم یا متعلم بھی۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2322)
حدیث: (389) دنیا مردار سے بھی حقیر ہے
حضرت جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ کا گزر ایسی جگہ سے ہوا جہاں بکری کا ایک مردہ بچہ پڑا تھا، حضور ﷺ نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اُسے یہ ایک درہم کے عوض ملے؟ صحابہ نے عرض کی ہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے،
آپ نے فرمایا:
فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ، مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ
اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جیسا تمہارے نزدیک یہ (مردار)۔
(صحیح مسلم، حدیث: 2 (2957))
حدیث: (390) ریاکاری
حضرت محمود بن لبید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ \" قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:\"الرِّيَاءُ
تمہارے بارے میں جس چیز سے میں بہت ڈرتا ہوں وہ شرک اصغر ہے، صحابۂ کرام نے عرض کی : یارسول اللّٰہ ﷺ! شرک اصغر کیا چیز ہے؟ فرمایا: ریاکاری (یعنی دکھاوے کے لیے کام کرنا)۔
(مسند احمد، حدیث: 23630)
حدیث: (391)دکھاوے کا وبال
حضرت شداد بن اوس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ
جس شخص نے دکھاوے کے لیے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس شخص نے دکھاوے کے لیے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس شخص نے دکھاوے کے لیے صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔
(مسند احمد، حدیث: 17140)
حدیث: (392)ریاکاری باعث رسوائی
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللهُ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَصغَّرَهُ وَحَقَّرَهُ
جو شخص لوگوں میں اپنے عمل کا چرچا کرے گا تو اللّٰہ تعالیٰ اس (کی ریاکاری) کو لوگوں میں مشہور کردے گا اور اس کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
(شعب الایمان، حدیث:6402)
حدیث: (393)ذلت کا لباس
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو دنیا میں دکھاوے اور شہرت کے لیے لباس پہنے گا اسے اللّٰہ تعالیٰ قیامت میں ذلت کا لباس پہنائے گا۔
(مسند احمد،حدیث:5664)
حدیث: (394) زیادہ ہنسنا اور غفلت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
بندہ کوئی بات نہیں کہتا مگر اس لیے کہ اس سے لوگوں کو ہنسائے
يَهْوِي بِهَا أَبَعْدَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَزِلُّ عَلَى لِسَانِهِ أَشَدَّ مَا يَزِلُّ عَلَى قَدَمَيْهِ
اس کی وجہ سے وہ آسمان اور زمین کے فاصلے سے زیادہ نیچے گرجاتا ہے وہ اپنی زبان سے اس سے زیادہ سخت پھسلتا ہے جو اپنے قدم سے پھسلتا ہے۔
(شعب الایمان،حدیث:4492)

