حدیث:(382) حرص بہت خطرناک ہے
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى ثَالِثًا، وَلاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
اگر (دنیادار) آدمی کے پاس مال سے بھرے ہوئے دو جنگل ہوں جب بھی وہ تیسرے جنگل کی آرزو کرے گا اور ایسے (حریص) آدمی کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6436)
حدیث: (383) بوڑھا حریص
حضرت انس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: حُبِّ الْعَيْشِ، وَالْمَالِ
آدمی بوڑھا ہوتا ہے اور اس کی دو باتیں جوان ہوتی ہیں: زندگی اور مال کی محبت ۔
(صحیح مسلم،حدیث: 113 (1046)
حدیث: (384) دو بھوکے بھیڑیے
حضرت کعب بن مالک رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ
دو بھوکے بھیڑئیے جنہیں بکریوں میں چھوڑ دیا جائے وہ اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال اور مرتبہ کا لالچ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(سنن الترمذی، حدیث: 2376)
حدیث: (385) اقوامِ سابقہ کے اسبابِ ہلاکت
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ، أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا
حرص و طمع سے بچو کیونکہ پہلی قومیں حرص ہی کے باعث تباہ ہوئیں ، حرص نے انہیں بخل کی ترغیب دی انہوں نے بخل کیا ،اسی نے انہیں قطع رحمی پر مائل کیا اور انہوں نے قطع رحمی اختیار کی،اسی حرص نے انہیں بدکاری پر ابھارا اور انہوں نے بدکاریاں کیں۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:1698)
حدیث: (386) ہر برائی کی جڑ
حضرت حذیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ حضورﷺ کو میں نے فرماتے ہوئے سنا:
وَحُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔
(دیکھیے: مشکاۃ المصابیح، حدیث: 5212)
حدیث: (387)دنیا اور آخرت
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ، فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يَفْنَى
جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے (ایسی محبت جو اللّٰہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی محبت پر غالب ہو) تو وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے تو (اے مسلمانو!) فنا ہونے والی چیز (یعنی دنیا) کو چھوڑ کر باقی رہنے والی چیز (یعنی آخرت) کو اختیار کرلو۔
(مسند احمد،حدیث: 19698)

