حدیث: (375) اصل مفلس کون؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
کیا تمہیں معلوم ہے مفلس کون ہے؟ لوگوں نے عرض کی: ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ پیسے ہوں نہ سامان۔
حضور ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
میری امت میں دراصل مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھا لیا ہو، کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو تو اب انہیں راضی کرنے کے لیے اس شخص کی نیکیاں ان مظلوموں کے درمیان تقسیم کی جائیں گی ، پس اس کی نیکیاں ختم ہونے کے بعد بھی اگر لوگوں کے حقوق اس پر باقی رہ جائیں گے تو اب حقداروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
(صحیح مسلم، حدیث: 59 (2581))
حدیث: (376) حقوق یہیں معاف کروالو!
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ
جس نے اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم کیا وہ اس سے آج ہی معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم، اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو بقدر ظلم اس سے چھین لیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔
(صحیح بخاری، حدیث: 6534)
حدیث: (377)مظلوم کی بددعا سے بچو!
حضرت علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:
إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللهَ حَقَّهُ، وَإِنَّ اللهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حَقٍّ حَقَّهُ
مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللّٰہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔
(شعب الایمان،حدیث:7061)
حدیث: (378) چوری اور شراب نوشی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
لَعَنَ اللّٰهُ السَّارِقَ
چور پر اللّٰہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔
(صحیح بخاری،حدیث: 6783)
حدیث: (379) جنت سے محرومی کے چار اسباب
حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
والدین کی نافرمانی کرنے والا، جوا کھیلنے والا، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہ ہوگا۔
(مشکاۃ المصابیح، حدیث:3653)
حدیث: (380) حرام میں شفا نہیں
حضرت وائل حضرمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ:
طارق بن سوید رضی اللّٰہ عنہ نے حضور ﷺ سے شراب کشید کرنے کی بابت دریافت کیا تو حضور ﷺ نے منع فرمایا، انہوں نے عرض کی: ہم تو اسے صرف دوا کے لیے بناتے ہیں،
حضور ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
وہ دوا نہیں ہے بلکہ وہ خود بیماری ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث: 12 (1984))
حدیث: (381) اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، قریش نے حضرت اسامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو ان کی سفارش کرنے کے لیے راضی کیا، جب حضرت اسامہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے سفارش کی تو حضور ﷺ نے فرمایا:
اللّٰہ تعالیٰ کی حدود میں کیوں سفارش کرتے ہو! پھر لوگوں سے فرمایا:
تم سے پہلے کے لوگ اسی لیے ہلاک و تباہ ہوگئے کہ جب ان کا بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اسے سزا دیا کرتے۔
وَايْمُ اللّٰهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا
اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں۔
(صحیح بخاری، حدیث: 3475)

