میری امت میں دراصل مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کرآئے اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھا لیا ہو، کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو تو( اب انہیں راضی کرنے کے لیے) اس شخص کی نیکیاں ان مظلوموں کے درمیان تقسیم کی جائیں گی ، پس اس کی نیکیاں ختم ہونے کے بعد بھی اگر لوگوں کے حقوق اس پر باقی رہ جائیں گے تو اب حقداروں کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے یہاں تک کہ اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
(صحیح مسلم، حدیث: 59 (2581))
حدیث:( 376) حقوق یہیں معاف کروالو!
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لِأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ
جس نے اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم کیا وہ اس سے آج ہی معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم، اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو بقدر ظلم اس سے چھین لیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔(صحیح بخاری، حدیث: 6534)
حدیث:( 377)مظلوم کی بددعا سے بچو!
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ اللهَ حَقَّهُ، وَإِنَّ اللهَ لَا يَمْنَعُ ذَا حَقٍّ حَقَّهُ
مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا۔(شعب الایمان،حدیث:7061)
حدیث:( 378) چوری اور شراب نوشی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
لَعَنَ اللّٰهُ السَّارِقَ
چور پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری،حدیث: 6783)
حدیث:( 379)جنت سے محرومی کے چار اسباب
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
والدین کی نافرمانی کرنے والا، جوا کھیلنے والا، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہ ہوگا۔(مشکاۃ المصابیح، حدیث:3653)
حدیث:( 380) حرام میں شفا نہیں
حضرت وائل حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ سے شراب کشید کرنے کی بابت دریافت کیا تو حضورﷺ نے منع فرمایا، انہوں نے عرض کی: ہم تو اسے صرف دوا کے لیے بناتے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ
وہ دوا نہیں ہے بلکہ وہ خود بیماری ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 12 (1984))
حدیث:( 381) اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، قریش نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی سفارش کرنے کے لیے راضی کیا ، جب حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفارش کی تو حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں کیوں سفارش کرتے ہو! پھر لوگوں سے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اسی لیے ہلاک و تباہ ہوگئے کہ جب ان کا بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اسے سزا دیا کرتے۔
Page 64 of 116

