حدیث: (369) عاجزی کی فضیلت اور تکبر کی نحوست
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا:
اے لوگو! تواضع (یعنی عاجزی و انکساری) اختیار کرو، میں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے تواضع کرتا ہے خدا تعالیٰ اسے بلند فرماتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا سمجھا جاتا ہے
وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللهُ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ، حَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خِنْزِيرٍ
اور جو غرور کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل و خوار رہتا ہے اور اپنے تئیں خود کو بڑا خیال کرتا ہے حالانکہ انجام کار ایک دن لوگوں کی نگاہ میں کتے اور سؤر سے بھی بدتر ہوجاتاہے۔
(شعب الایمان ، حدیث:7790)
حدیث: (370) پہلوان کون؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ
بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔
(صحیح بخاری ،حدیث: 6114)
حدیث: (371) وصیتِ رسول
حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ سے ایک شخص نے عرض کی: مجھے وصیت فرمائیے، حضور ﷺ نے فرمایا:
لاَ تَغْضَبْ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لاَ تَغْضَبْ
غصہ نہ کیا کرو، اس شخص نے یہ سوال بار بار دہرایا، حضورﷺ نے یہی فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔
(صحیح بخاری ،حدیث: 6116)
حدیث: (372) غصے کا علاج
حضرت عطیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:
غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے
فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ
تم میں سے جب کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث:4784)
حدیث: (373) غصہ دور کیسے کریں؟
حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ
جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اگر غصہ دفع ہوجائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔
(دیکھیے؛ مسند احمد،حدیث: 21348)
حدیث: (374) ظلم و ستم
حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہوگا۔
(صحیح مسلم، حدیث: 57 (2579))

