Zia ul Hadees

Total Pages: 116

Page 62 of 116

حدیث: (361) دھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رہبر مکرم غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا ، تو آپ کی انگلیاں گیلی ہوگئیں آپ نے فرمایا:

اے اناج والے یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی: یارسول اللّٰہ ! یہ بارش سے بھیگ گیا ہے،

فرمایا: تو نے اسے غلہ کے اوپر کیوں نہیں کیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں

مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي

جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔

(صحیح مسلم،حدیث: 102)

 

حدیث: (362) بخل

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم نور مجسم نے فرمایا:

سخی اللّٰہ تعالیٰ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے ، لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے

وَالبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللّٰهِ بَعِيدٌ مِنَ الجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ، وَالْجَاهِلُ السَّخِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَابِدٍ بَخِيلٍ

اور بخیل اللّٰہ تعالیٰ سے دور ہے، جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے اور دوزخ سے قریب ہے اور جاہل سخی خدا کے نزدیک، عبادت گزار بخیل سے کہیں بہتر ہے۔

(سنن الترمذی، حدیث:1961)

 

حدیث: (363) جنت سے دور تین لوگ

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ نے فرمایا:

لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا بَخِيلٌ

مکار، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں داخل نہ ہوں گے ۔

(سنن الترمذی، حدیث:1963)

 

حدیث: (364) بخل اور بد خلقی جمع نہیں ہوسکتے

حضرت ابو سعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ  نے فرمایا:

خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: البُخْلُ وَسُوءُ الخُلُقِ

مومن میں دو باتیں: بخل اور بد خلقی جمع نہیں ہوتیں۔

(سنن الترمذی، حدیث:1962)

 

حدیث: ( 365)بدزبانی ، باعثِ عار ہے

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم نے فرمایا:

کسی کو کسی پر فضیلت نہیں مگر دین اور تقویٰ سے

حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا، بَخِيلًا جَبَانًا

انسان کے لیے اتنی شرم و عار کافی ہے کہ وہ بدزبان فحش گو ہو اور بزدل بخیل ہو۔

(دیکھیے: مسند احمد ،حدیث : 17313)

 

حدیث: (366) غرور و تکبر

حضرت عبدالله ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا:

لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ

وہ شخص آگ میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر غرور ہو۔

(صحیح مسلم، حدیث: 148 (91))

 

حدیث: (367) متکبر جہنمی ہے

حضرت حارثہ ابن وہب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نے فرمایا:

کیا میں تمہیں جنتی لوگ نہ بتاؤں! ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جائے اگر وہ اللّٰہ تعالیٰ پر قسم کھالے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی قسم پوری کر دے

أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ

کیا میں تمہیں آگ والے نہ بتاؤں! ہر سخت دل، اترا کر چلنے والا اور اپنی پڑائی چاہنے والا (جہنمی ہے )۔

(صحیح بخاری، حدیث: 6071)

 

حدیث: ( 368) رائی برابر تکبر کا وبال

حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم نے فرمایا:

جس شخص کے دل میں رائی برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ  آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (کیا یہ بھی تکبر میں داخل ہے؟)

حضور نے فرمایا:

إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ

اللّٰہ تعالیٰ جمیل ہے اور وہ جمال (و آرائش ) کو پسند فرماتا ہے، ( اس لیے آرائش و جمال کی خواہش تکبر نہیں ہے ) البتہ تکبر حق کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنا ہے۔

(صحیح مسلم ، حدیث: 147(91))

Share:
keyboard_arrow_up