لَا، وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ
نہیں، بلکہ تعصب یہ ہے کہ اپنی قوم کے ظالم کی مدد اور حمایت کی جائے۔
(دیکھیے: سنن ابن ماجہ ، حدیث: 3949)
حدیث:( 340)مسلمان کے اوصاف
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
آپس میں حسد نہ کرو اور نہ ہی آپس میں رنجش رکھو اور آپس میں بغض و قطعی تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع بھی نہ کرے ، اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو،
الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے، تقویٰ یہاں ہے۔
پھر آقا و مولیٰ ﷺ نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا ، پھر فرمایا: انسان کے لیے یہ شر کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی ہر چیز حرام ہے اس کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت۔ (دیکھیے:صحیح مسلم ، حدیث: 32(2564))
حدیث:( 341)مسلمان کی مدد کرو
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا:
انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا
اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ! اس کی مظلومیت میں تو مدد کروں گا مگر ظالم ہونے پر اس کی مدد کیسے کروں؟ فرمایا:
تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ
اسے ظلم سے روک دو( اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے)۔(صحیح بخاری ، حدیث: 2444)
حدیث:( 342) فحش گوئی اور بے حیائی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا كَانَ الفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ
بے حیائی کسی چیز میں نہیں ہوتی مگر اسے عیب ناک کردیتی ہے اور شرم کسی چیز میں نہیں ہوتی مگر اسے زینت بخشتی ہے۔(سنن الترمذی، حدیث:1974)
حدیث:( 343)مومن ایسا نہیں ہوتا
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسم ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ المُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الفَاحِشِ وَلَا البَذِيءِ
مومن نہ تو طعنہ باز ہوتا ہے اور نہ لعنت باز اور نہ فحش گو ، نہ بے حیا۔
(سنن الترمذی، حدیث:1977)
حدیث:( 344)حسنِ اخلاق کا وزن
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ المُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ
قیامت کے دن مومن کے ترازو میں جو بڑی بھاری چیز رکھی جائے گی وہ حسن اخلاق ہے اور اللہ تعالیٰ فحش گو بد خلق سے ناراض ہوتا ہے۔(سنن الترمذی، حدیث: 2002)
حدیث:( 345) بالغ عورت کے احکامِ پردہ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہماحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ باریک کپڑے پہنے ہوئے تھیں، نبی مکرم ﷺ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور فرمایا:
يَا أَسْمَاءُ، إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا
اے اسماء! جب عورت بالغ ہوجائے تو سوائے ان اعضاء کے اور کچھ دیکھا جائے جائز نہیں۔ آپ علیہ السلام نے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، حدیث:4104)
Page 59 of 116

